متحدہ عرب امارات

خواتین کا عالمی دن ، پنک شوز اینڈ جلباب کے نام سے ناول لکھنے والی پاکستانی خاتون کو متحدہ عرب امارات کی کس چیز نے متائثر کیا کہ وہ اتنی کامیاب بن گئی؟

خلیج اردو
08 مارچ 2021
دبئی : یہ ہے پاکستان ناول نگار کرن شاہ جنہوں نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر اپنے ناول پنک شوز اینڈ جلباب سے خواتین کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ جس طرح ہیں ، جس حال میں ہیں ، وہ اپنے وجود کے ساتھ نڈر ہوکر دنیا کا سامنا کریں اور کسی بھی طرح سے ہچکچائے نہیں۔

خواتین کے عالمی دن کے موقع پر خلج ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کرن شاہ نے کہا کہ وہ متحدہ عرب امارات کی پہلی وزیر مملکت برائے ہائیر سائنس اور متحدہ عرب امارات کی خلائی ایجنسی کی چیئرپرسن سارہ العمری جیسی باصلاحیت خواتین سے بہت متاثر ہیں ۔ ان کی کتاب میں نوجوانوں کو حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ وہ اپنے خوابوں کی تکمیل میں بالکل ہچکچائے نہیں۔ میری کتاب متحدہ عرب امارات کے آگے بڑھنے کے نظریے سے متاثر ہے ۔ متحدہ عرب امارات میں روایات اور اقدار کو عزت دی جاتی ہے لیکن یہ روایات کھبی بھی عورت کیلئے کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالتی ۔ انہوں نے کہا کہ پنک شوز اینڈ جلباب میں لفظ جلباب اسلامی قدر کے نظام کی نمائندگی کرتا ہے اور ’پنک شوزے‘ ترقی پسندی کی نشاندہی کرتا ہے۔

یہ کتاب اس مہینے کے آخر میں لانچ کی جائے گی۔ کرن شاہ متحدہ عرب امارات آنے کے بعد اپنے آپ کو نکھارنے اور صلاحتیوں کو منوانے کے حوالے سے اپنے سفر کے بارے میں گفتگوکرتے ہوئے کہتی ہے کہ امارات میں انہوں نے نہ صرف انہوں بہادری کے ساتھ حجاب پہنے رکھا بلکہ اس سے ان کو فنکار بننے ، نیورو لسانی پروگرامنگ (این ایل پی) کی ماہر ، ایک متحرک اسپیکر ، میراتھن اور دیگر فٹنس سرگرمیوں میں حصہ لینے اور ترقی کے ہر عمل میں حصہ لینے سے حجاب نے انہیں نہیں روکا۔

کرن شاہ نے کہا کہ طویل عرصے سے حجاب ایک محدود ذہنیت کے ساتھ وابستہ کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن اب وقت بدل رہے ہیں اور آج حجاب انفرادیت کو ظاہر کرتا ہے۔ میں نے 25 سال کی عمر میں اس وقت حجاب پہننا شروع کیا تھا جب میں دبئی آئی تھی اور اس کے بعد کبھی مڑ کر نہیں دیکھا۔ مجھے فٹ ہونے کی جدوجہد اور اس کے بعد ہونے والی ہر طرح کی بےچینی یاد ہے۔ لیکن متحدہ عرب امارات آنے سے میرا ذہن کافی کھل گیا اور چیزوں کو مختلف انداز سے دیکھنے کا موقع بھی ملا۔ آج میں ایک لائف کوچ ، این ایل پی ماہر اور کارپوریٹ ٹرینر ہوں۔ میں ایک بین الاقوامی آرٹسٹ بھی ہوں جس نے اپنے کام کی وسیع پیمانے پر نمائش کی ہے ۔ میں ایک معروف عبایا بنانے والے برانڈ کی برانڈ امبیسیڈر ہوں۔ میرے معمولی لباس اور حجاب نے مجھے اپنے مقاصد میں سے کسی کو حاصل کرنے سے کبھی نہیں بھی روکا۔ اگر اس کی اہمیت ہے تو وہ یہ ہے کہ اس نے مجھے باقیوں سے ممتاز کیا۔

ناول پنک شوز اینڈ جلباب میں اس کے ایک باب کا نام ‘خوابوں کا برج خلیفہ’ بھی ہے جہاں مصنفہ کہتی ہے کہ جب تک کہ آپ کا نقطہ نظر ، مشن اور اقدار ایک ساتھ نہیں ہوں گی ۔۔۔ اس وقت تک آپ کی صلاحیتیں اور عزائم "فرش کی اینٹوں ، جیسے ہر ایک کے ذہن میں ہوں گے۔ اور جب آپ ن اینٹوں کو جوڑنا شروع کر دیتے ہو تو یہ اینٹیں عمارت کی شکل اختیار کرنا شروع کردی جاتی ہے۔ یوں آپ خوابوں کا برج خلیفہ بنانے کیلئے میدان میں آجاتے ہیں۔

پنک جوتے اور جلباب’ نہ صرف حجاب پہننے والوں کی طرز زندگی کی رہنمائی کرتا ہے بلکہ قارئین کو بھی زندگی میں اپنا مقصد تلاش کرنے اور زندگی اپنے مقصد کیلئے جینے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ کتاب اسلامی اقدار کو برقرار رکھتے ہوئے حوصلہ ، استقامت اور عزائم کے حوالے سے ہے۔ کرن شاہ نے کہا کہ میری کتاب ایک سوانح عمری ہے جو تجربے کے موتیوں اور مختلف ایڈونچر سے بھری ہوئی ہے۔

Source : Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button