
خلیج اردو
ایران نے 26 روزہ جنگ بندی کے بعد متحدہ عرب امارات پر نئے حملے کر دیے جس سے خطے میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی اور عالمی سطح پر تشویش بڑھ گئی۔
4 مئی کی شام شہریوں کو ہنگامی الرٹ جاری کیا گیا جس میں ممکنہ میزائل خطرے سے خبردار کرتے ہوئے گھروں میں رہنے یا محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی، جبکہ چند گھنٹوں میں متعدد الرٹس جاری کیے گئے۔
حکام کے مطابق ایران کی جانب سے 12 بیلسٹک میزائل، 3 کروز میزائل اور 4 ڈرون داغے گئے جن میں سے بیشتر کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا، تاہم بعض حملوں کے اثرات سامنے آئے۔
الفجیرہ کے پیٹرولیم انڈسٹری زون کو نشانہ بنایا گیا جہاں آگ لگ گئی اور تین بھارتی شہری زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ امدادی ٹیموں نے صورتحال کو قابو میں کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے “پروجیکٹ فریڈم” کے اعلان کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں پھنسے بحری جہازوں کو تحفظ فراہم کرنا بتایا گیا، تاہم ایران نے اسے اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔
امریکا اور ایران کے درمیان بیانات کی جنگ کے بعد صورتحال مزید بگڑی، جبکہ امریکی فورسز نے بھی بحری جہازوں کے تحفظ کیلئے کارروائیاں کیں اور ایرانی کشتیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
اگرچہ جنگ بندی باضابطہ طور پر ختم نہیں ہوئی، تاہم حالیہ حملوں نے اس معاہدے کو عملی طور پر کمزور کر دیا ہے اور اسے غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اپنی سلامتی اور خودمختاری کے خلاف اقدام قرار دیا اور واضح کیا کہ وہ اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے امارات کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور خطے میں امن و استحکام کیلئے سفارتی حل پر زور دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بعد ازاں مذاکرات کی طرف واپسی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ مسئلے کا فوجی حل ممکن نہیں، جبکہ عالمی رہنماؤں نے بھی ایران پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جنگ بندی کے باوجود خطہ بدستور غیر مستحکم ہے اور کسی بھی وقت کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔






