
خلیج اردو
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان کے دوسرے دورے پر مسقط سے اسلام آباد پہنچ گئے، اس سے قبل وہ جمعے کی رات بھی اسلام آباد آئے تھے۔
دورے کے دوران انہوں نے ہفتے کے روز وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی، جس میں دو طرفہ تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق عباس عراقچی پاکستانی حکام کے ساتھ حالیہ مشاورت کو جاری رکھنے کیلئے دوبارہ اسلام آباد آئے ہیں، جہاں انہوں نے فیلڈ مارشل سے ایک اور اہم ملاقات بھی کی۔
ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کے ایجنڈے کا اہم نکتہ پاکستان کو جنگ کے خاتمے کیلئے ایران کی شرائط سے آگاہ کرنا ہے، جبکہ ان مذاکرات کا ایٹمی معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔
دوسری جانب عباس عراقچی نے قطر، سعودی عرب، مصر اور فرانس کی قیادت سے ٹیلیفونک رابطے بھی کیے، جن میں خطے میں کشیدگی، جنگ بندی اور اس کے استحکام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق انہوں نے اسلام آباد آمد سے قبل قطری وزیراعظم، سعودی عرب، فرانس اور مصر کے وزرائے خارجہ سے بات چیت کی، جبکہ یورپ کے تعمیری کردار پر زور دیا گیا اور فرانس نے سفارتکاری جاری رکھنے کی حمایت کا اعادہ کیا۔
چاروں ممالک کی قیادت نے ایران پر زور دیا کہ جنگ بندی کے تسلسل کو برقرار رکھا جائے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے مشاورت میں اضافہ کیا جائے۔
یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی کوششیں تیزی سے جاری ہیں اور پاکستان اس عمل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔






