
خلیج اردو
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ "اسلام آباد معاہدہ” زیر غور ہے، جس کے تحت فوری جنگ بندی اور بعد ازاں جامع معاہدے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس منصوبے میں دو مرحلے شامل ہیں، پہلے مرحلے میں فوری سیز فائر نافذ کیا جائے گا جبکہ دوسرے مرحلے میں 15 سے 20 دن کے اندر ایک مکمل اور حتمی معاہدہ طے کیا جائے گا۔ اس معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجویز بھی شامل ہے، تاہم اس معاملے پر اب تک مکمل اتفاق نہیں ہو سکا۔
پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی پیش رفت کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مسلسل رابطے کیے، جبکہ ابتدائی مفاہمت پاکستان کے ذریعے الیکٹرانک طور پر طے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ عارضی جنگ بندی کے بدلے آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ نہیں اور کسی بھی ڈیڈ لائن کو قبول نہیں کرے گا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق تہران اپنی قومی مفادات کے مطابق شرائط طے کر رہا ہے اور کسی دباؤ یا دھمکی کے تحت مذاکرات نہیں کرے گا۔
دوسری جانب امریکی وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ 45 روزہ جنگ بندی کی تجویز زیر غور ہے، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاحال اس کی منظوری نہیں دی اور ایران کو معاہدہ نہ کرنے کی صورت میں مزید حملوں کی دھمکی بھی دی ہے۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال بدستور کشیدہ ہے، جہاں خلیجی تعاون کونسل نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے بحری راستے کے تحفظ کے لیے اقدامات کی اپیل کی ہے، جبکہ بحرین اور متحدہ عرب امارات نے بھی عالمی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم سلامتی کونسل کے اندر اس معاملے پر اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اسلام آباد معاہدہ کامیاب ہو جاتا ہے تو نہ صرف جنگ بندی ممکن ہوگی بلکہ عالمی تیل کی ترسیل اور خطے کے استحکام پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے، تاہم موجودہ اختلافات اس پیش رفت کو غیر یقینی بنا رہے ہیں۔







