
خلیج اردو
یو اے ای میں ماہرینِ صحت نے پانچ سال سے کم عمر بچوں کے لیے اسکرین ٹائم محدود کرنے سے متعلق برطانیہ کی نئی ہدایات پر ردعمل دیتے ہوئے والدین کو متوازن اور محتاط رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق پانچ سال سے کم عمر بچوں کے لیے روزانہ ایک گھنٹے سے زیادہ اسکرین ٹائم مناسب نہیں، جبکہ دو سال سے کم عمر بچوں کو اکیلے اسکرین کے سامنے نہ بٹھانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ماہر نفسیات ڈاکٹر ولید العمر کے مطابق ابتدائی عمر دماغی نشوونما کے لیے انتہائی اہم ہوتی ہے، جہاں سیکھنے کا عمل کھیل، حسی تجربات اور انسانی رابطے سے جڑا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق زیادہ اسکرین استعمال، خاص طور پر بغیر کسی تعامل کے، زبان سیکھنے میں تاخیر، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت میں کمی اور توجہ کی کمزوری کا سبب بن سکتا ہے۔
ڈاکٹر سنیہا جان نے بتایا کہ اسکرین کا زیادہ استعمال بچوں کی نیند اور جسمانی صحت پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے، خاص طور پر رات کے وقت اسکرین دیکھنے سے نیند کے معمولات متاثر ہوتے ہیں اور جسمانی سرگرمی کم ہو جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر اسکرین استعمال نقصان دہ نہیں، بلکہ معیاری اور عمر کے مطابق مواد اگر والدین کے ساتھ دیکھا جائے تو تعلیمی فائدہ بھی دے سکتا ہے۔ تاہم تیز رفتار ویڈیوز اور زیادہ بصری محرکات بچوں کی توجہ کم کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹرز نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اسکرین کے متبادل کے طور پر بچوں کو کتابیں پڑھنے، ڈرائنگ، کھیل کود اور بیرونی سرگرمیوں کی طرف راغب کریں، اور کھانے کے وقت یا سونے سے پہلے اسکرین کے استعمال سے گریز کریں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جدید دور میں اسکرین سے مکمل دوری ممکن نہیں، مگر متوازن استعمال اور والدین کی نگرانی ہی بچوں کی بہتر نشوونما کو یقینی بنا سکتی ہے۔







