
ڈینش رکن پارلیمنٹ راسموس جارلوف نے کہا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی فوج کو گرین لینڈ پر حملہ کرنے کا حکم دیتے ہیں تو اس سے “ایک جنگ” شروع ہو جائے گی، کیونکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف لڑیں گے۔ یہ تبصرہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے گرین لینڈ، جو ڈنمارک کے زیر انتظام خودمختار علاقہ ہے، پر امریکی کنٹرول کے لیے دوبارہ زور دیا ہے، جسے قدرتی وسائل سمیت معدنیات کے حصول کی وجہ سے اہم سمجھا جاتا ہے۔
جارلوف نے خبردار کیا کہ ایسی کوئی بھی فوجی مداخلت غیر معقول ہے کیونکہ نہ کوئی دشمنی ہے، نہ کوئی قانونی جواز موجود ہے، اور امریکہ کے پاس پہلے ہی گرین لینڈ تک رسائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان کوئی خطرہ یا دشمنی نہیں ہے، اور اس قسم کے اقدامات بین الاقوامی قوانین اور نیٹو اتحاد کے لیے خطرہ ہیں۔
پوری صورتحال کے پس منظر میں ڈینش وزیر اعظم اور دیگر یورپی رہنماؤں نے بھی زور دیا ہے کہ گرین لینڈ کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کا احترام ہونا چاہیے، اور کسی بھی فوجی حملے کے شدید نتائج ہوں گے۔







