متحدہ عرب امارات

ٹاپ ٹائٹل: پروازوں سے قبل ‘جسٹ ان کیس’ دوائیں خریدنے کا رجحان بڑھ گیا

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں موسمِ سرما کی تعطیلات کے آغاز کے ساتھ ہی شہریوں میں سفر سے قبل ’جسٹ ان کیس‘ دوائیں خریدنے کا رجحان نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔ فارمیسِٹس کے مطابق زیادہ تر مسافر یہ سوچ کر ادویات اور سپلیمنٹس خریدتے ہیں کہ اگر بیرونِ ملک طبیعت خراب ہو جائے تو فوری علاج کا بندوبست موجود رہے۔ اس ضمن میں دبئی اور شارجہ کی فارمیسیوں میں ملٹی وٹامنز، وٹامن سی، زنک، امیون بوسٹرز اور ہائیڈریشن سپلیمنٹس کی طلب میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ سردی، نزلہ اور درد کش ادویات بھی خریداری کی فہرست میں شامل ہیں۔

جے ایل ٹی، دبئی کی ایک کمیونٹی فارمیسی کے فارمیسِٹس کے مطابق تعطیلات سے قبل بڑی تعداد میں لوگ اپنی تیار کردہ میڈیسن کِٹ کیلئے سپلیمنٹس اور بنیادی ادویات لیتے ہیں، تاہم وہ صارفین کو سمجھاتے ہیں کہ وٹامنز عمومی صحت میں مددگار ضرور ہوتے ہیں مگر انفیکشن سے مکمل تحفظ نہیں دیتے۔

فارمیسِٹس کا کہنا ہے کہ شہری اینٹی بائیوٹکس بھی ’احتیاطی طور پر‘ خریدنا چاہتے ہیں لیکن بغیر ڈاکٹر کے نسخے کے انہیں دینے سے سختی سے انکار کیا جاتا ہے۔ شارجہ کے علاقے النہدہ میں کمیونٹی فارمیسی کے عبدالسلام کے مطابق لوگ اینٹی بائیوٹکس کی طلب کرتے ہیں مگر انہیں محفوظ اوور دی کاؤنٹر ادویات تجویز کی جاتی ہیں اور مشورہ دیا جاتا ہے کہ کسی بھی مسئلے کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے، کیونکہ بیرون ملک موسم، خوراک اور ماحول مختلف ہو سکتا ہے۔

ادھر ماہرینِ طب نے بھی احتیاطی ادویات، خصوصاً سپلیمنٹس کے غیر ضروری استعمال پر خبردار کیا ہے۔ مدکیئر اسپتال شارجہ کے ڈاکٹر جدیر اککپارمبل کے مطابق زیادہ تر بیماریاں جیسے نزلہ، ہلکا بخار اور پیٹ کی خرابی وائرس کی وجہ سے ہوتی ہیں اور ان میں اینٹی بائیوٹکس کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ان کا کہنا ہے کہ طاقتور ادویات کا بلاوجہ استعمال جسم کو خطرات میں ڈال سکتا ہے اور اصل مرض کی تشخیص میں تاخیر کا باعث بنتا ہے۔

ڈاکٹرز کے مطابق بعض مسافر غلط فہمی کا شکار ہوتے ہیں کہ مختلف وٹامنز اور امیون بوسٹرز لینے سے وہ سفر کے دوران بیماری سے مکمل محفوظ رہیں گے حالانکہ یہ ادویات محض عمومی صحت بہتر بنانے میں مدد کرتی ہیں، بیماری سے مکمل تحفظ نہیں دیتیں۔ متعدد سپلیمنٹس یا سردی کی مختلف ادویات ایک ساتھ لینے سے جسم پر بوجھ پڑتا ہے، خاص طور پر جب مسافر مختلف موسموں اور ماحول میں جا رہے ہوں۔

برجیل ڈے سرجری سینٹر، الشہامہ کی ڈاکٹر ماریان ملک ایشاک مورکوس کے مطابق وہ اکثر ایسے مریضوں سے ملتی ہیں جو سفر سے قبل اینٹی بائیوٹکس اور متعدد سپلیمنٹس جمع کر لیتے ہیں، حالانکہ ان کا بے جا استعمال تکالیف اور دوسرے نقصانات کا سبب بن سکتا ہے۔

ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ سفر کے دوران صرف بنیادی میڈیکل کِٹ ساتھ رکھی جائے جس میں درد اور بخار کی ادویات، اورل ری ہائیڈریشن سالٹس، الرجی کی دوا اور فرسٹ ایڈ کا بنیادی سامان شامل ہو، جبکہ طاقتور ادویات یا زائد سپلیمنٹس پیک کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

سردیوں کے سفر میں اضافہ جاری ہے اور ماہرین کے مطابق عوام کے لیے پیغام واضع ہے کہ سفر کیلئے ادویات کا انتخاب ذمہ داری سے کریں، غیر ضروری دواؤں سے پرہیز کریں اور علامات بڑھنے کی صورت میں ڈاکٹر سے رابطہ کریں بجائے اس کے کہ ’جسٹ ان کیس‘ دواؤں پر انحصار کیا جائے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button