
خلیج اردو
دبئی: العین آنے والے سیاحوں کے لیے اس موسم میں ایک منفرد تجربہ تیار ہے۔ شہر کے تاریخی کھجور کے نخلستان اب روشنیوں سے جگمگا رہے ہیں، جہاں شاندار فن پارے شام کے وقت کی سیر کو ایک یادگار تجربہ بنا دیتے ہیں۔
منار ابوظبی، جو محکمۂ ثقافت و سیاحت – ابوظبی کے زیر اہتمام ہے، نے پہلی بار جدید فن کو العین تک پہنچایا ہے۔ اس موقع کے لیے یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل ’’الجیمی‘‘ اور ’’القطارہ‘‘ نخلستانوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔
اس دلکش منصوبے کے پیچھے چھ فنکاروں کا ہاتھ ہے، جن میں بین الاقوامی شہرت یافتہ رفائل لوزانو-ہیمر کے ساتھ اماراتی فنکار خالد شافر، میثہ حمدان، عبداللہ الملہ، عمار العطار، اور کرسچین برنک مین شامل ہیں۔ ان کے تیار کردہ فن پارے روشنی، آواز اور جدت کے امتزاج سے ایک دل موہ لینے والا ماحول پیدا کرتے ہیں، جو قدیم کھجوروں کے درمیان ایک خوابناک منظر تخلیق کرتا ہے۔
پہلی نومبر کو افتتاحی ہفتہ کے موقع پر ہزاروں افراد نے ان جگمگاتی راہوں پر چہل قدمی کی، جو العین کے ’’روایتی دستکاری میلے‘‘ کے دوران بھرپور عوامی توجہ کا مرکز بنی رہیں۔ خاندانوں اور فن کے شائقین نے ’’لائٹ کمپاس‘‘ کے عنوان سے منعقد اس سال کے تھیم کے تحت جدید اور روایتی عناصر کے حسین امتزاج سے لطف اٹھایا۔
نخلستانوں میں نصب پاپ اپ کیفے سیاحوں کو تازگی بخش مشروبات فراہم کرتے ہیں، جبکہ فوٹو گرافی ورکشاپس زائرین کو ان روشنیوں کے جادوئی مناظر قید کرنے کے بہترین طریقے سکھاتی ہیں۔
یہ فن میلہ روزانہ شام 5 بج کر 30 منٹ سے رات 12 بجے تک جاری رہے گا اور 4 جنوری 2026 تک کھلا رہے گا۔ داخلہ مفت ہے، جبکہ جو افراد فن پاروں کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنا چاہیں وہ شام 7 بجے ہونے والے گائیڈڈ ٹور میں محض 50 درہم ادا کر کے شرکت کر سکتے ہیں۔







