متحدہ عرب امارات

بھارتی فضائی قوانین میں تبدیلی کی تجویز، یو اے ای کے مسافروں کے لیے سہولتوں میں اضافہ

متوقع

خلیج اردو

دبئی: بھارت کی ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (DGCA) نے ہوابازی کے نئے مسودہ قوانین پیش کیے ہیں، جن کے تحت مسافروں کو ٹکٹ بکنگ کے 48 گھنٹوں کے اندر بغیر کسی جرمانے کے پرواز منسوخ یا تبدیل کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ یہ اقدام بھارت آنے یا جانے والے یو اے ای کے ہزاروں مسافروں کے لیے اہم سہولت ثابت ہو سکتا ہے۔

مسودہ کے مطابق اگر پرواز کی روانگی کی تاریخ گھریلو پروازوں کے لیے کم از کم پانچ دن اور بین الاقوامی پروازوں کے لیے پندرہ دن باقی ہو تو مسافر بغیر کسی اضافی فیس کے (سوائے کرایے کے فرق کے) اپنی بکنگ منسوخ یا تبدیل کر سکیں گے۔

ڈی جی سی اے نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام ان تاخیرات کو ختم کرنے کے لیے ہے جو عام طور پر ایجنٹس یا تھرڈ پارٹی پلیٹ فارمز کے ذریعے بکنگ کے بعد ریفنڈ کی ادائیگی میں پیش آتی ہیں۔ مسودے کے مطابق، ایئرلائنز کو ہر ریفنڈ 21 ورکنگ دنوں کے اندر مکمل کرنا ہوگا، چاہے ٹکٹ براہِ راست خریدا گیا ہو یا کسی ایجنٹ کے ذریعے۔

نئے قوانین میں ایک اور اہم تجویز یہ ہے کہ ایئرلائنز مسافروں کو ٹکٹ بک کرنے کے 24 گھنٹوں کے اندر اپنے نام میں ہجے (spelling) کی اصلاح مفت میں کرنے کی اجازت دیں گی، بشرطیکہ ٹکٹ ایئرلائن کی ویب سائٹ سے براہِ راست خریدا گیا ہو۔ اس اقدام سے ان مسافروں کو سہولت ملے گی جو معمولی ٹائپو گرافیکل غلطیوں کی وجہ سے بھاری فیس ادا کرتے ہیں۔

ڈی جی سی اے نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ اگر کوئی مسافر طبی ایمرجنسی کے باعث اپنی پرواز منسوخ کرتا ہے تو ایئرلائن مکمل ریفنڈ یا مستقبل کے لیے کریڈٹ واؤچر فراہم کرے۔

اس وقت ڈی جی سی اے نے ان مجوزہ قوانین پر ایئرلائنز، ایجنٹس اور عوام سے تجاویز طلب کی ہیں، جن کی آخری تاریخ 30 نومبر مقرر کی گئی ہے۔

نئے قوانین کی نمایاں خصوصیات:
• 48 گھنٹے کا رعایتی وقت — مسافر ٹکٹ خریدنے کے 48 گھنٹوں کے اندر بغیر جرمانے کے پرواز منسوخ یا تبدیل کر سکیں گے۔
• مفت نام کی اصلاح — 24 گھنٹوں کے اندر نام میں غلطی درست کرنے پر کوئی فیس نہیں لی جائے گی۔
• تیز تر ریفنڈ — ایئرلائنز کو 21 ورکنگ دنوں میں ریفنڈ مکمل کرنا ہوگا۔
• ایجنٹ سے آزاد ریفنڈ — ایئرلائنز براہِ راست ریفنڈ کی ذمہ دار ہوں گی، چاہے بکنگ کسی ایجنٹ کے ذریعے ہوئی ہو۔
• طبی ایمرجنسی میں سہولت — ایسے معاملات میں مکمل ریفنڈ یا مستقبل کے سفر کے لیے کریڈٹ واؤچر دیا جائے گا۔

اگر یہ قوانین نافذ ہو گئے تو بھارت کا فضائی سفر بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ ہو جائے گا اور یو اے ای میں مقیم بھارتی مسافروں کو مالی اور انتظامی لحاظ سے نمایاں ریلیف حاصل ہوگا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button