متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں سونے چاندی کی فروخت، قرض اتارنے اور پراپرٹی خریداری کا رجحان

خلیج اردو
ریکارڈ بلند قیمتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یو اے ای کے متعدد رہائشیوں اور سرمایہ کاروں نے سونا اور چاندی فروخت کر دی، جس کا مقصد قرضوں کی ادائیگی اور جائیداد کی خریداری کے لیے ڈاؤن پیمنٹ کرنا ہے۔

دبئی میں 24 قیراط سونے کی قیمت جمعرات کو فی گرام 666 درہم کی بلند ترین سطح پر پہنچی، تاہم ہفتے کے اختتام پر 76.5 درہم کمی کے بعد 589.5 درہم فی گرام ہو گئی۔ اسی طرح 22، 21، 18 اور 14 قیراط سونا بھی اپنی بلند ترین سطح سے نیچے آ گیا۔

عالمی منڈی میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت کم ہو کر 4,893.2 ڈالر فی اونس رہ گئی، جو 8.14 فیصد کمی ہے۔ اس سے قبل سونا 5,500 ڈالر فی اونس کی تاریخی سطح پر پہنچا تھا۔ قیمتوں میں کمی کی وجہ امریکی فیڈرل ریزرو کے نئے سربراہ کی تقرری کے بعد ڈالر کی مضبوطی بتائی گئی ہے۔

قیمتوں میں اچانک کمی کے بعد دبئی گولڈ سوق میں سونا اور چاندی فروخت کرنے والوں کی طویل قطاریں دیکھنے میں آئیں۔ 29 سال سے دبئی میں مقیم شہری شہزادی رحمان نے بتایا کہ انہوں نے پرانا زیور فروخت کر کے 25 فیصد منافع حاصل کیا، جبکہ ان کی بہن نے ایک پرانا کنگن تقریباً دگنی قیمت پر فروخت کیا۔

ان کے مطابق بہت سے لوگ وہ زیورات بیچ رہے ہیں جو استعمال میں نہیں، تاکہ دوسرے سرمایہ کاری مواقع، خصوصاً رئیل اسٹیٹ میں پیسہ لگایا جا سکے یا کریڈٹ کارڈ کے قرض اتارے جا سکیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دبئی میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران پراپرٹی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث کرائے دار بھی ملکیت کی جانب جا رہے ہیں۔

دوسری جانب سرمایہ کار مایانک دودجا نے بتایا کہ انہوں نے حالیہ اتار چڑھاؤ کے دوران اپنے سونے اور چاندی کے ذخیرے کا بڑا حصہ فروخت کیا، تاہم ان کے مطابق حالیہ فروخت خوف اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی خبروں کے باعث ہوئی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button