
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات نے اس دعوے کو ’’غلط اور بے بنیاد‘‘ قرار دیتے ہوئے واضح طور پر مسترد کر دیا ہے کہ وہ غزہ کی سول انتظامیہ سنبھالنے جا رہا ہے۔
وزیرِ مملکت برائے بین الاقوامی تعاون ریم الہاشمی نے کہا کہ ’’یو اے ای متعدد بار واضح کر چکا ہے کہ غزہ کی حکمرانی اور انتظامی ذمہ داری مکمل طور پر فلسطینی عوام کی ہے‘‘۔
انہوں نے زور دیا کہ یو اے ای غزہ میں فلسطینی عوام کی مدد کے لیے انسانی ہمدردی کی کوششیں بڑھانے اور اسرائیلی و فلسطینی عوام کے درمیان پائیدار امن کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یو اے ای ’’بورڈ آف پیس‘‘ کا بانی رکن ہے اور غزہ ایگزیکٹو بورڈ میں بھی شامل ہے، جہاں اس کا کردار امن، استحکام اور ترقی کے فروغ پر مرکوز ہے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق جنوری میں صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے امریکا کی دعوت پر ’’بورڈ آف پیس‘‘ میں شمولیت اختیار کی، جو غزہ کے لیے امریکی صدر کے 20 نکاتی امن منصوبے کی حمایت کا اظہار ہے۔
وزارت نے کہا کہ یہ منصوبہ فلسطینیوں کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے اہم ہے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کے لیے یو اے ای کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔







