متحدہ عرب امارات

دبئی پولیس کے سنہری میڈل یافتہ سنائپر جاسم محمد فیروز کی شاندار خدمات

 

خلیج اردو
دبئی: دبئی پولیس کے لیفٹیننٹ کرنل جاسم محمد فیروز نے 33 سالہ کیریئر میں سو سے زائد طلائی و نقرئی تمغے جیت کر نہ صرف کھیلوں میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل کیں بلکہ پولیس ٹریننگ کے شعبے میں بھی نمایاں اصلاحات متعارف کرائیں، جنہوں نے دبئی پولیس کی تربیتی صلاحیتوں کو نئی جہت دی۔

ان کا شمار ابتدائی دور سے ہی امارات کے بہترین نیزہ بازوں میں ہوتا تھا۔ قومی ایتھلیٹکس ٹیم اور پولیس فورس کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے 1996 میں 56 میٹر دور نیزہ پھینک کر ’’نیشنل چیمپئن‘‘ کا خطاب حاصل کیا، جو برسوں تک برقرار رہا۔ یو اے ای سوئٹ چیلنج کمیٹی سمیت متعدد کمیٹیوں کے رکن کی حیثیت سے وہ آج بھی دبئی پولیس کی تربیتی پالیسیوں کو نئی سمت دے رہے ہیں۔

اپنے کھیلوں کا سفر انہوں نے 1990 میں شروع کیا اور نیزہ بازی و ڈسکس تھرو میں دو دہائیوں تک کامیابیاں سمیٹیں۔ خلیجی مقابلوں میں فتح، جدید پینتھلون ٹیم میں شمولیت اور مختلف عالمی ایونٹس میں امارات کی نمائندگی ان کا اعزاز رہا۔ سب سے پہلی بین الاقوامی نمائندگی انہوں نے ہنگری میں فوجی مقابلوں کے دوران کی۔

پولیس کیریئر کا آغاز انہوں نے 1990 کی دہائی میں پروٹیکٹیو سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ سے کیا، جہاں فائر آرمز میں مہارت نے انہیں خصوصی وی آئی پی پروٹیکشن یونٹ تک پہنچایا۔ ان کی ٹیم نے برسوں تک پسٹل شوٹنگ مقابلوں پر غلبہ برقرار رکھا۔

وی آئی پی پروٹیکشن کے پہلے تربیتی بیچ کا حصہ بننے کے بعد وہ دبئی پولیس اکیڈمی سے وابستہ ہوئے اور ایسے کھلاڑی تیار کیے جنہوں نے مختلف قومی و عسکری مقابلوں میں اعلیٰ مقام حاصل کیا۔ تخصصی کورسز نے ان کی تربیتی مہارتوں میں مزید اضافہ کیا۔

2010 میں وہ دوبارہ جنرل ڈیپارٹمنٹ آف پروٹیکٹیو سیکیورٹی اینڈ ایمرجنسی میں آئے اور ’’شوٹنگ مینٹر‘‘ کے طور پر شہرت پائی۔ انہوں نے فائرنگ ٹریننگ میں انقلابی تبدیلیاں متعارف کرائیں، جن میں متحرک اہداف، گاڑیوں سے فائرنگ، عملی صورتحال پر مبنی مشقیں اور دیگر جدید طریقہ کار شامل تھے۔ انہوں نے دبئی پولیس کا پہلا گھڑ سوار شوٹنگ کورس بھی تیار کیا اور کشتیوں، موٹر سائیکلوں اور مختلف اونچائیوں سے نشانہ بازی جیسے مشکل تربیتی پروگرام بھی تشکیل دیے۔

ہیڈ آف ٹریننگ امپیکٹ سیکشن کی حیثیت سے وہ الروایہ ٹریننگ سٹی کی ترقی و توسیع کے ذمہ دار ہیں۔ ان کی نگرانی میں شوٹنگ رینجز کی تعداد پانچ سے بڑھ کر پندرہ سے زیادہ ہو گئی، جبکہ جنگلاتی ماحول کی طرز پر سرسبز منصوبہ بھی مکمل کیا گیا۔

انہوں نے اپنے شعبے میں 184 تجاویز پیش کیں، جن میں سے 42 پر عملدرآمد ہو چکا ہے۔ 240 مراعات، 42 ایوارڈز اور بے شمار تعریفی اسناد ان کی خدمات کا ثبوت ہیں۔ اس وقت وہ ٹریننگ سٹی میں خطے کے پہلے پہاڑی بائیکنگ ٹریک کی تکمیل کی نگرانی کر رہے ہیں۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button