
خلیج اردو
دبئی: بھارت میں طلبہ کی بڑھتی ہوئی خودکشیوں کے بحران نے گزشتہ ہفتے ایک اور خوفناک رخ اختیار کر لیا، جب دو مختلف واقعات میں اساتذہ کی جانب سے ذہنی ہراسانی کے بعد دو بچوں نے جان دے دی۔ بدسلوکی، تضحیک، بے جا تعلیمی دباؤ اور جنسی ہراسانی جیسے عوامل اس بحران کو مزید سنگین بنا رہے ہیں، جبکہ ماہرین کے مطابق بھارت کا تعلیمی نظام بچوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
دہلی میں 16 سالہ دسویں جماعت کے طالب علم نے راجندرا پلیس میٹرو اسٹیشن پر خودکشی کی۔ پولیس کے مطابق اس کے پاس سے ملنے والے نوٹ میں ایک استاد پر بار بار تضحیک اور جنس کی بنیاد پر توہین آمیز جملے کہنے کے الزامات شامل تھے، جن میں یہ فقرہ بھی تھا کہ "لڑکے نہیں روتے”۔ اس واقعے کے بعد والدین اور طلبہ نے شدید احتجاج کیا اور الزام عائد کیا کہ کچھ اساتذہ بچوں کے ساتھ ناروا رویہ اختیار کر کے خوف کا ماحول پیدا کر رہے ہیں۔ کولمبس اسکول کی ہیڈ مسٹریس سمیت چار ملازمین کو معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ تفتیش جاری ہے۔
بھارت میں طلبہ کی خودکشیوں سے متعلق اعداد و شمار انتہائی تشویش ناک ہیں۔ 2023 میں 13 ہزار 892 طلبہ نے خودکشی کی، جو گزشتہ دہائی کے مقابلے میں 65 فیصد اضافہ ہے۔ 2022 میں رپورٹ ہونے والی 13 ہزار کے قریب خودکشیوں میں یہ تعداد مجموعی خودکشیوں کا 7.6 فیصد بنتی ہے، جبکہ اسی سال بھارت میں ہونے والی کل خودکشیاں ایک لاکھ 70 ہزار 924 رہیں۔ امتحان میں ناکامی سے جڑی خودکشیاں 2 ہزار 248 تھیں، جو تعداد میں کم ضرور ہیں لیکن نیٹ اور جے ای ای امتحانات کے بعد بڑھتی اموات کو دیکھتے ہوئے ایک خطرناک اشارہ ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 2019 کے بعد سے طلبہ کی خودکشیوں میں 34 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ دس برسوں میں یہ اضافہ تقریباً 65 فیصد رہا۔ زیادہ تر واقعات میں مرد طلبہ نے جان دی۔ مہاراشٹر، تامل ناڈو اور مدھیہ پردیش میں 2022 میں سب سے زیادہ طلبہ کی خودکشیاں رپورٹ ہوئیں۔ کوچنگ ہب کوٹا میں شدید مقابلے کی فضا، تعلیمی دباؤ، گھر کے مالی مسائل، والدین کی توقعات اور ذہنی تنہائی جیسے عوامل طلبہ کو شدید جذباتی دباؤ میں مبتلا کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ محض تعلیمی بوجھ کا نہیں، بلکہ خوف پر مبنی استاد و شاگرد تعلق، کلاس روم میں تضحیک، جنسی و ذہنی ہراسانی اور مشاورت کے نظام کی عدم دستیابی نے صورتحال کو تباہ کن بنا دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے حال ہی میں اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ذہنی صحت کو بنیادی انسانی حق کے تحت سہارا فراہم کریں اور منظم کونسلنگ سسٹم قائم کریں، تاہم اس فیصلے کو دیر آمد سمجھا جا رہا ہے۔
نفسیاتی ماہرین کے مطابق محض اساتذہ کی معطلی مسئلے کا حل نہیں۔ جب تک اسکول اپنے نظام کی مکمل اصلاح نہیں کرتے — جن میں تربیت یافتہ کونسلرز کی فراہمی، اساتذہ کی تربیت، اور محفوظ و خفیہ شکایتی نظام شامل ہوں — اس قسم کے اقدامات محض علامتی رہیں گے۔
بھارت میں بڑھتی ہوئی طلبہ خودکشیاں اس بات کی متقاضی ہیں کہ تعلیمی ادارے امتحان پر مبنی نظام سے نکل کر بچوں کے لیے محفوظ، معاون اور جذباتی طور پر متوازن ماحول قائم کریں، بصورت دیگر ملک اپنے معصوم بچے یوں ہی کھوتا رہے گا جنہیں مدد کے لیے کوئی راستہ نظر نہیں آتا تھا۔







