
خلیج اردو
دبئی، 25 اکتوبر 2025
دبئی میں شہری اوسطاً 13.7 منٹ میں 10 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہیں، جس سے یہ شہر دنیا کے بڑے شہروں کے مقابلے میں ٹریفک کے لحاظ سے کہیں زیادہ مؤثر قرار پایا ہے۔ ٹام ٹام ٹریفک انڈیکس 2024 کے مطابق دبئی نے سڈنی، مونٹریال، برلن، روم اور میلان جیسے شہروں کو ٹریفک روانی کے اعتبار سے پیچھے چھوڑ دیا۔
روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) کے مطابق دبئی کا ٹریول ٹائم انڈیکس (TTI) 1.23 ریکارڈ کیا گیا، جو کہ عالمی اوسط 1.3 سے بہتر ہے۔ آر ٹی اے نے اپنی 20ویں سالگرہ کے موقع پر یہ اعداد و شمار جاری کیے۔ ادارے کے مطابق پچھلی دہائی میں ٹریفک انڈیکس میں 4 فیصد بہتری آئی ہے، جو 2014 میں 1.28 سے کم ہوکر 2024 میں 1.23 تک پہنچ گیا۔
آر ٹی اے کے کمیشن پر کی گئی میکینزی اینڈ کمپنی کی ایک تحقیق کے مطابق، دبئی کی سڑکوں، پلوں اور اسمارٹ ٹریفک نظام میں طویل المدتی سرمایہ کاری نے ٹریفک سیفٹی کو نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ 2006 میں ہر 1 لاکھ آبادی پر اموات کی شرح 21.9 تھی جو 2024 میں کم ہو کر صرف 1.8 رہ گئی، جو دنیا بھر میں سب سے نمایاں کمیوں میں سے ایک ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2007 سے 2024 تک دبئی میں ٹریفک حادثات سے اموات کی شرح میں تقریباً 97 فیصد کمی آئی۔ 2024 تک دبئی کی شرح اموات میلان، میامی، مانچسٹر، ٹورنٹو اور برلن جیسے شہروں سے بھی کم تھی۔
ٹریفک کی بہتری نے شہریوں کی زندگی کے معیار اور ذہنی سکون پر بھی مثبت اثر ڈالا ہے۔ کم وقت میں سفر اور ہموار ٹریفک نے روزمرہ کے تناؤ میں کمی کی، جبکہ پیدل چلنے اور سائیکلنگ منصوبوں نے صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دیا۔
آر ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل مطر الطایر نے کہا کہ یہ ترقی ظاہر کرتی ہے کہ دبئی میں ٹرانسپورٹ میں سرمایہ کاری نے شہری زندگی کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔
ان کے مطابق “ہر بچایا گیا منٹ، ہر روکا گیا حادثہ اور ہر کم ہونے والا اخراج دبئی کے رہائشیوں کی زندگی کے معیار میں اضافہ کر رہا ہے۔ آج دبئی دنیا کے سب سے زیادہ آرام دہ اور قابلِ رہائش شہروں میں شامل ہے۔”
مستقبل کے منصوبوں میں بغیر پٹری کے چلنے والی ٹرامز، معلق ٹرانسپورٹ نظام اور ہائی فریکوئنسی بسز شامل ہیں۔ دبئی واک منصوبے کے تحت سال بھر شہر کو پیدل چلنے کے لیے موزوں بنانے کے لیے راستے بھی تیار کیے جائیں گے۔
آر ٹی اے ام سقیم، الجمیرا، الوسل اور شیخ زاید روڈ سمیت مختلف اہم شاہراہوں کی توسیع اور بہتری کے منصوبے بھی شروع کرے گی تاکہ ٹریفک روانی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔





