
خلیج اردو
دبئی کے ایک رہائشی جاسم محمد نے جب اپنے الکوز اپارٹمنٹ کے کرایہ میں اضافے سے متعلق ای میل کھولی تو متوقع سے زیادہ اضافہ دیکھ کر حیران رہ گئے۔ وہ گزشتہ تین برس سے اسی اپارٹمنٹ میں مقیم ہیں اور اس دوران سالانہ کرایہ اڑتالیس ہزار درہم سے بڑھ کر چھپن ہزار سات سو درہم تک پہنچ چکا تھا۔ مارچ دو ہزار چھبیس میں معاہدے کی تجدید سے قبل رئیل اسٹیٹ آفس نے کرایہ مزید بڑھا کر تریسٹھ ہزار درہم کرنے کا نوٹس دیا۔
جاسم محمد نے روایتی بحث یا ہمسایوں سے موازنہ کرنے کے بجائے دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے اسمارٹ رینٹل انڈیکس سے رجوع کیا، جس کے مطابق اس عمارت میں کرایہ بڑھانے کی گنجائش موجود نہیں تھی اور اضافے کے خانے میں ’’نا قابلِ اطلاق‘‘ درج تھا۔ انہوں نے یہ نتیجہ رئیل اسٹیٹ آفس کو ارسال کیا، جس کے بعد فوری طور پر کرایہ چھپن ہزار سات سو درہم پر برقرار رکھنے پر اتفاق کر لیا گیا۔
رئیل اسٹیٹ ماہرین کے مطابق گزشتہ برس اسمارٹ رینٹل انڈیکس کے اجرا کے بعد کرایہ سے متعلق مذاکرات میں نمایاں شفافیت آئی ہے اور اب عمارت مخصوص سرکاری ڈیٹا کی بنیاد پر فیصلے ہو رہے ہیں۔ نیا انڈیکس عمارت کی تکنیکی حالت، ساخت، فنشنگ، دیکھ بھال، مقام، سہولیات اور پارکنگ و صفائی جیسے عوامل کو مدنظر رکھتا ہے، جبکہ کرایہ میں اضافہ موجودہ کرایہ اور مارکیٹ کے اوسط کرایے کے فرق کی بنیاد پر صفر سے بیس فیصد تک ہو سکتا ہے۔
بیٹر ہومز کے ڈائریکٹر پراپرٹی مینجمنٹ نیرل جھاویری کے مطابق کرایہ دار اب رینٹل انڈیکس کو فعال طور پر استعمال کر رہے ہیں، اور کئی عمارتوں میں مخصوص یونٹس کے کرایوں میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں ہوا۔ اے ون پراپرٹیز کی کمرشل ہیڈ کرمفیلا جاکنوز کا کہنا ہے کہ اب قیمتوں کا تعین مفروضوں کے بجائے رجسٹرڈ لین دین کی بنیاد پر ہو رہا ہے، جس سے منصفانہ مذاکرات ممکن ہو رہے ہیں اور کئی مالکان خالی پن سے بچنے کے لیے اضافے مؤخر یا محدود کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ دو ہزار چھبیس میں دبئی کے بعض علاقوں میں کرایوں میں چار سے چھ فیصد اضافے کی توقع ہے، تاہم اسمارٹ رینٹل انڈیکس نے معاہدوں کی تجدید کے وقت غیر ضروری اضافوں کو محدود کر دیا ہے اور کرایہ داروں کو واضح اور قابلِ اعتماد رہنمائی فراہم کی ہے۔







