
خلیج اردو
ابوظبی پولیس نے شہری علاقوں میں شور مچانے والی گاڑیوں کے استعمال کے خلاف سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر معمولی انجن کی آوازیں، لاپرواہ ڈرائیونگ اور غیر قانونی تبدیلیاں عوامی سکون میں خلل اور سڑکوں پر خطرات کا سبب بن رہی ہیں۔ پولیس کے مطابق خاص طور پر کچھ نوجوان ڈرائیوروں کی جانب سے ایسی سرگرمیاں رہائشی علاقوں اور گھروں کے قریب ریتیلی مقامات پر دیکھی جا رہی ہیں، جن سے بچوں، بزرگوں اور مریض افراد میں خوف، ذہنی دباؤ اور بے چینی پیدا ہوتی ہے۔
ابوظبی پولیس کا کہنا ہے کہ سردیوں کے موسم سے لطف اندوز ہونا کمیونٹی کے سکون کو متاثر کرنے کا جواز نہیں بن سکتا، اس لیے تمام ڈرائیورز ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور عوامی امن کا احترام کریں۔ موٹر سائیکل سواروں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حفاظتی قوانین پر عمل کریں، خاندانی کیمپوں اور ریتیلی علاقوں میں شور سے گریز کریں اور اجازت کے بغیر تبدیل شدہ گاڑیاں عوامی سڑکوں پر نہ چلائیں۔
پولیس نے واضح کیا ہے کہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ٹریفک اور سرکولیشن قانون کے آرٹیکل بیس کے تحت غیر معمولی شور پیدا کرنے والی گاڑی چلانے پر دو ہزار درہم جرمانہ اور بارہ ٹریفک پوائنٹس عائد کیے جائیں گے، جبکہ انجن یا چیسیس میں غیر مجاز تبدیلی پر ایک ہزار درہم جرمانہ، بارہ پوائنٹس اور تیس دن تک گاڑی ضبط کی جا سکتی ہے۔ قانون نمبر پانچ دو ہزار بیس کے مطابق غیر قانونی تبدیلیوں پر ضبط کی گئی گاڑی کی رہائی کے لیے دس ہزار درہم ادا کرنا ہوں گے، جبکہ تین ماہ کے اندر رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں گاڑی نیلامی کے لیے بھیجی جا سکتی ہے۔
ابوظبی پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ شور یا خلل ڈالنے والی گاڑیوں کی اطلاع فوری طور پر نو سو ننانوے پر دیں، اور واضح کیا کہ رہائشیوں کو جان بوجھ کر پریشان کرنے یا سڑک کی حفاظت کو خطرے میں ڈالنے والوں کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔







