
خلیج اردو
ابوظبی: ابوظبی میں ڈزنی لینڈ کے اعلان نے متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی خطے میں رہنے والوں کو خوشی کی لہر میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ اب ڈزنی کا جادوئی تجربہ صرف چند گھنٹوں کی ڈرائیو پر دستیاب ہوگا۔ اس منصوبے سے نہ صرف مقامی سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ بیرون ملک سفر کرنے والوں کے لیے وقت اور اخراجات دونوں میں بچت ہوگی۔
اب تک یو اے ای کے شہری اور رہائشی ڈزنی لینڈ کے لیے زیادہ تر فرانس، ہانگ کانگ یا امریکہ کا انتخاب کرتے تھے، جس کے لیے ویزے، طویل پروازیں اور بھاری اخراجات درکار ہوتے تھے۔ تاہم، ابوظبی میں پارک کی تعمیر کے بعد یہ سب کچھ ماضی کا قصہ بن جائے گا۔
گلاڈاری انٹرنیشنل ٹریول سروسز کے منیجر میر وسیم راجہ کے مطابق، "ڈزنی لینڈ صرف یو اے ای کے باشندوں کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے جی سی سی کے لیے سب سے پسندیدہ تفریحی مقام ہے۔” انہوں نے کہا کہ "اب جب یہ سہولت ابوظبی میں موجود ہوگی تو یہ ایک ’گیم چینجر‘ ثابت ہوگی۔ لوگ اسے چند دن کی شاندار اسٹی کیشن کے طور پر اپنائیں گے۔”
سیاحت کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف متحدہ عرب امارات بلکہ بھارت، روس، افریقہ اور قفقاز کے خطے سے آنے والے سیاحوں کو بھی اپنی جانب کھینچے گا۔ وائز فاکس ٹورازم کے سینئر منیجر سبیر تھیکی پوراتھ والا پیل نے کہا، "ڈزنی لینڈ ہر قومیت کے لوگوں کے لیے پرکشش ہے۔ بچے ہوں یا بڑے، سب اپنے پسندیدہ کرداروں سے ملاقات کے لیے پرجوش ہوتے ہیں۔”
تاہم، انہوں نے موسم گرما کی شدت کو ممکنہ چیلنج کے طور پر تسلیم کیا۔ "بہت سے ڈزنی ایونٹس جیسے پریڈز کھلے آسمان تلے ہوتے ہیں، جو گرمیوں میں دشوار ہو سکتے ہیں۔ مگر سردیوں میں ٹکٹوں کی مانگ آسمان کو چھوئے گی، جیسا کہ فیوچر میوزیم کے ساتھ دیکھنے میں آ رہا ہے،” انہوں نے مزید کہا۔
سبیر نے یہ بھی نشاندہی کی کہ فرانس کے ویزے کا حصول بہت سے افراد کے لیے مشکل ہوتا ہے، جبکہ یو اے ای کا ویزا سسٹم نسبتاً آسان ہے اور جغرافیائی طور پر بھی خطے کے لوگوں کے لیے زیادہ قابلِ رسائی ہے۔ ان کے مطابق، "متحدہ سیاحتی ویزا” (یونائیٹڈ جی سی سی ویزا) کے نافذ ہونے کے بعد یہ منصوبہ سیاحوں کی اولین ترجیح بن جائے گا۔
یاس آئی لینڈ پہلے ہی خاندانوں کے لیے مقبول اسٹی کیشن مقام ہے، اور اب ڈزنی لینڈ کے اضافے سے مقامی سیاحت نئی بلندیوں کو چھو سکتی ہے۔ سبیر کے بقول، "اب یو اے ای کے خاندانوں کو ڈزنی کے جادوئی تجربے کے لیے نہ پاسپورٹ درکار ہوگا، نہ فلائٹ۔”







