متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں "ایک گاڑی، ایک ڈرائیور” کا رجحان ٹریفک جام اور سڑکوں پر جارحیت میں اضافہ کر رہا ہے

خلیج اردو
ابوظہبی – متحدہ عرب امارات میں بڑھتے ہوئے ٹریفک دباؤ اور سڑکوں پر ڈرائیوروں کی تناؤ بھری حالت پر روڈ سیفٹی یو اے ای کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ "ایک کار، ایک ڈرائیور” کا بڑھتا رجحان ٹریفک جام اور سڑک پر بدتمیزی و جارحیت کی بڑی وجہ بنتا جا رہا ہے۔

یہ سروے الوَثبہ نیشنل انشورنس کے تعاون سے کیا گیا، جس کا مقصد یو اے ای میں گاڑی چلانے والوں کی جذباتی کیفیت اور طرزِعمل کو جانچنا تھا۔

اہم نتائج:

ٹریفک دباؤ میں اضافے کی وجوہات:

  • شارجہ اور دبئی کے 90 فیصد افراد نے کہا کہ وہ روزانہ ٹریفک جام کا سامنا کرتے ہیں۔

  • دبئی میں 85 فیصد لوگوں نے اس سال پچھلے سال کی نسبت زیادہ ٹریفک محسوس کی۔

  • شارجہ میں 62 فیصد ڈرائیور اپنی گاڑی میں اکیلے سفر کرتے ہیں، جو ٹریفک میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

  • مجموعی طور پر 92 فیصد افراد ذاتی گاڑی، بس، یا ٹیکسی پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ صرف 8 فیصد افراد میٹرو، سائیکل یا اسکوٹر جیسے متبادل ذرائع استعمال کرتے ہیں۔

حل کیا ہے؟

روڈ سیفٹی یو اے ای کے بانی تھامس ایڈلمین نے کہا کہ:

“ٹریفک جام نہ صرف وقت کا ضیاع ہے بلکہ ڈرائیوروں کے رویے پر منفی اثر بھی ڈالتا ہے۔ ہمیں لوگوں میں شائستگی اور برداشت کو فروغ دینا ہوگا۔”

سروے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ:

  • ایک کار میں زیادہ افراد کے سفر کو فروغ دینا ہوگا۔

  • کار پولنگ اور متبادل ٹرانسپورٹ ذرائع کو اپنانے سے سڑکوں پر دباؤ کم ہو سکتا ہے۔

  • دبئی میں 43 فیصد افراد گاڑی میں ایک یا دو افراد کو ساتھ لے کر سفر کرتے ہیں، جبکہ شارجہ میں اس شرح کو بہتر بنانے کی گنجائش موجود ہے۔

یہ سروے اس بات کی واضح تصویر پیش کرتا ہے کہ اگر ٹریفک جام، سڑک پر بدتمیزی، اور ماحولیاتی اثرات کو کم کرنا ہے تو "ایک ڈرائیور، ایک کار” کے رجحان پر نظرثانی ناگزیر ہو چکی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button