متحدہ عرب امارات

مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث فضائی سفر شدید متاثر، چالیس ہزار سے زائد پروازیں منسوخ، فضائی حدود کی بندش سے ایوی ایشن سیکٹر کو بڑا جھٹکا

خلیج اردو
مشرق وسطیٰ میں جاری علاقائی جنگ کے باعث فضائی سفر شدید متاثر ہوا ہے اور اب تک خطے میں چالیس ہزار سے زائد پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔

فضائی تجزیاتی ادارے سیریم کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اٹھائیس فروری سے نو مارچ کے درمیان مشرق وسطیٰ کے لیے اور وہاں سے تقریباً بہتر ہزار پروازیں شیڈول تھیں، جن میں سے چالیس ہزار سے زیادہ پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔

ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کی فضائی کمپنیوں نے چند روز کے تعطل کے بعد محدود پروازیں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔

متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک نے محدود فضائی آپریشن جاری رکھنے کے لیے ایک خصوصی فضائی راہداری بھی قائم کر دی ہے تاکہ ضروری پروازیں جاری رہ سکیں۔

عالمی مالیاتی درجہ بندی کے ادارے فِچ ریٹنگز کے مطابق اٹھائیس فروری کو اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملوں اور اس کے بعد ایران کی جانب سے خطے میں کیے گئے حملوں کے نتیجے میں فضائی شعبہ شدید متاثر ہوا ہے۔

ادارے کے مطابق اگر یہ تنازع ایک ماہ سے کم مدت میں ختم ہو جاتا ہے تو فضائی کمپنیوں، ہوائی اڈوں، ہوٹل انڈسٹری، انشورنس اور طیارے لیز پر دینے والی کمپنیوں پر اس کے اثرات محدود رہ سکتے ہیں۔ تاہم اگر یہ بحران طویل ہو گیا تو چھوٹی اور کم وسائل رکھنے والی کمپنیوں کو زیادہ نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اٹھائیس فروری کے بعد خطے میں فضائی حدود کی بندش اور پابندیوں کے باعث ایئرلائنز کو پروازوں کے راستے تبدیل کرنا پڑے، کئی پروازیں دوسرے ہوائی اڈوں کی طرف موڑ دی گئیں جبکہ متعدد خدمات مکمل طور پر منسوخ کر دی گئیں۔

ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر وہ فضائی کمپنیاں ہو رہی ہیں جن کے مرکزی مراکز براہ راست متاثرہ ممالک میں واقع ہیں کیونکہ منسوخ پروازوں کے باعث انہیں آمدنی میں نمایاں کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button