متحدہ عرب امارات

رمضان میں اماراتی شہری کی منفرد خدمت، لکڑی کی آگ پر روایتی کھانے تیار کر کے روزانہ 900 افراد کو افطار کرانے کا اہتمام

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی ریاست فجیرہ کے علاقے مربح میں ایک اماراتی شہری گزشتہ سات برسوں سے رمضان المبارک میں لکڑی کی آگ پر روایتی کھانے تیار کر کے مزدوروں اور ضرورت مند افراد کو افطار کرانے کی منفرد روایت قائم کیے ہوئے ہیں۔

علی عبداللہ الکعبی نامی شہری ہر سال اپنے گھر کے سامنے عارضی کھلی کچن بنا لیتے ہیں جہاں مغرب کی اذان سے قبل ہریس، چاول، گوشت اور مرغی سمیت مختلف روایتی اماراتی کھانے تیار کیے جاتے ہیں۔ بعض دنوں میں یہاں ایک ہی دن میں تقریباً 900 افراد کو افطار کرایا جاتا ہے۔

الکعبی کے مطابق انہوں نے 2019 میں صرف ایک برتن ہریس کے ساتھ یہ سلسلہ شروع کیا تھا، مگر اب یہ تعداد بڑھ کر نو یا دس بڑے برتنوں تک پہنچ چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کبھی کبھی صرف ہریس کے لیے تیس کلو گرام تک گوشت اور چاول کے لیے ساٹھ سے سو کلو گرام تک مقدار استعمال ہوتی ہے اور رات کے اختتام تک کھانا مکمل طور پر تقسیم ہو جاتا ہے۔

الکعبی نے بتایا کہ وہ جان بوجھ کر لکڑی کی آگ پر کھانا پکاتے ہیں کیونکہ یہ اماراتی روایات کا حصہ ہے اور اس سے کھانے کا ذائقہ بھی مختلف ہوتا ہے۔ ان کے مطابق بزرگ افراد اس منظر کو دیکھ کر پرانی روایات کو یاد کرتے ہیں۔

افطار کے لیے تیار کیے جانے والے کھانوں میں ہریس، گرِل کیا ہوا بکرے اور مرغی کا گوشت، گوشت اور مرغی کا سالن، کلیجی اور تازہ چاول شامل ہوتے ہیں۔ ایک شام میں تقریباً چالیس مرغیاں، ستائیس سے اٹھائیس کلو گرام بکرے کا گوشت اور تقریباً بیس کلو گرام کلیجی پکائی جاتی ہے جبکہ موقع پر سینکڑوں سموسے بھی تیار کیے جاتے ہیں۔

الکعبی کے مطابق بزرگ مزدوروں کو قطار میں کھڑا ہونے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ انہیں ترجیحی طور پر کھانا دیا جاتا ہے تاکہ انہیں کسی قسم کی مشکل پیش نہ آئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد غیر ملکی مزدوروں کو روایتی اماراتی کھانوں سے بھی متعارف کرانا ہے کیونکہ بہت سے مزدوروں نے پہلے کبھی ہریس نہیں چکھا تھا۔

افطار کے بعد وہ چائے اور جوس کا اسٹیشن بھی قائم کرتے ہیں جو رات گئے تک کھلا رہتا ہے تاکہ لوگ آرام سے بیٹھ سکیں۔

الکعبی کا کہنا ہے کہ یہ کام صرف ان کا نہیں بلکہ دوستوں، رشتہ داروں اور مقامی لوگوں کی مشترکہ کوشش ہے جو لکڑی، گوشت اور دیگر سامان فراہم کر کے مدد کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اس خدمت کے بدلے انہیں کسی تعریف کی ضرورت نہیں کیونکہ اصل اجر اللہ کے پاس ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button