متحدہ عرب امارات

یو اے ای: اسکول داخلہ عمر میں تبدیلی، والدین کی لچک دینے کی اپیل

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں اسکول داخلہ عمر کے قواعد میں تبدیلی کے بعد والدین نے تعلیمی حکام سے بچوں کی کلاس تعیناتی میں لچک دینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ اگر بچے تعلیمی یا ذہنی طور پر تیار نہ ہوں تو انہیں ایف ایس ون میں ہی رکھنے کا اختیار دیا جائے۔

یہ مسئلہ وزارتِ تعلیم کے دسمبر میں کیے گئے اعلان کے بعد سامنے آیا، جس کے تحت برطانوی نصاب میں ایف ایس ون کے لیے داخلے کی کٹ آف تاریخ 31 اگست کے بجائے 31 دسمبر مقرر کر دی گئی۔ اس فیصلے کے نتیجے میں ستمبر سے دسمبر میں پیدا ہونے والے بچوں کو ایف ایس ون کے بجائے براہِ راست ایف ایس ٹو میں داخل ہونا پڑ سکتا ہے، جہاں وہ عمر میں ایک سال تک بڑے بچوں کے ساتھ پڑھیں گے۔

متاثرہ والدین پراجوَل گپتا نے کہا کہ ان کے بیٹے کی پیدائش اکتوبر 2022 کی ہے اور اب اسے ایف ایس ون چھوڑ کر ایف ایس ٹو میں جانا پڑے گا، جس سے وہ کلاس کا سب سے کم عمر طالبعلم ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ والدین سے انتخاب کا حق چھین لیا گیا ہے اور چند ماہ کا فرق اس عمر میں بچوں کی نشوونما کے لیے بہت اہم ہوتا ہے۔

برطانیہ سے تربیت یافتہ ابتدائی تعلیمی ماہر اور والدہ فلورنس سینڈرز نے کہا کہ ابتدائی تعلیمی سال بچوں کی سماجی اور ذہنی نشوونما کے لیے سب سے اہم ہوتے ہیں، جہاں وہ بنیادی سماجی مہارتیں سیکھتے ہیں جو ان کی پوری زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق ایک پورا سال کھیل، سماجی میل جول اور مہارتوں کی تربیت سے محرومی بچوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

فلورنس نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں ایک ایسی نسل سامنے آ سکتی ہے جو تعلیمی لحاظ سے پیچھے نہ بھی رہے، لیکن سماجی اور جذباتی ترقی میں متاثر ہو گی۔ انہوں نے خاص طور پر ان بچوں کی مشکلات کی نشاندہی کی جو ابھی تک ٹوائلٹ ٹرینڈ نہیں ہیں۔

اسکاٹش شہری جیمز ریڈ نے بتایا کہ ان کے بیٹے کو نشوونما سے متعلق مسائل درپیش ہیں، تاہم نئے قواعد کے تحت اسے خودکار طور پر ایف ایس ٹو میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق بچے کو اضافی معاونت درکار ہے اور ایف ایس ون میں رکھنے کے لیے ڈیموشن لیٹر کی شرط والدین کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔

والدین کے مطابق ڈیموشن کی درخواستیں اب شاذ و نادر ہی منظور کی جاتی ہیں، جبکہ اس فیصلے کے اثرات طویل المدتی ہیں۔ بعض والدین نے پسندیدہ اسکولوں کے قریب گھر خریدے اور سالوں پہلے داخلے کی درخواستیں دیں، مگر اب کچھ اسکولوں میں ایف ایس ٹو میں جگہ نہ ہونے کے باعث داخلے منسوخ کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button