دبئی: (خلیج اردو) متحدہ عرب امارات میں وزارت صحت کی جانب سے جاری ہدایت نامہ میں کہا گیا ہے کہ فارمیسز اب ڈاکٹرز کے تجویز کردہ ادویات پر کسی بھی قسم کی رعایت دینے کی مجاز نہیں۔ 5 یا 15 فیصد کا دیا جانے والا ڈسکاؤنٹ اب نہیں دیا جائے گا اور صرف اس نرخ پر ادویات فروخت کرنا ہوں گی جو وزات صحت کے ریٹ لسٹ کے مطابق ہو۔ اس حوالے سے وزارت صحت کے حکام نے مختلف چھاپے بھی مارے ہیں تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ کسی قسم کی خلاف ورزی تو نہیں کی جارہی۔
اسپتالوں کے ایک نامور نیٹ ورک کے ایک اعلی عہدیدار جو مختلف فارمیسز کو چلاتا ہے نے گلف نیوز کو بتایا کہ نرخ میں رعایت کے حوالے سے پابندی ان تمام ادویات پر عائد ہوگی جس کیلئے وزارت صحت نے قیمت مقرر کی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے قواعد پہلے سے موجود تھے مگر نگرانی نہ کیے جانے پر فارمیسز نے اپنی طرف سے نرخوں میں رعایت دینا شروع کیا۔ ہم عام طور پر پانچ فیصد کا ڈسکاؤنٹ دیتے ہیں جبکہ وزارت صحت چاہتی ہے کہ ہم ریٹیل قیمت پر ادویات بیچیں۔
فارمیسیز میں موجود ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت صحت کی ہدایات پر سختی سے عمل کیا جارہا ہے تاہم وزارت صحت سے اس بارے درخواست کی جائے گی کہ وہ ڈسکاؤنٹ دینے کی اجازت دیں۔
ادویہ سازکمپنی میں موجود ذرائع کے مطابق حکام کمپنیوں کے درمیان سیل بڑھانے کی دوڑ نہیں چاہتے۔ وزارت صحت نے دائمی امراض کی ادویات کی قیمتیں مقرر کیں ہیں۔ حالیہ دنوں میں زندگی بچانے والی ادویات کی پیدواری لاگت میں خاطر خواہ کمی آئی ہے اور ایسا زیادہ تر درآمد شدہ ادویات کے حوالے سے ہے۔ ذرائع کے مطابق فارمیسز اپنی سیل بڑھانے کیلئے ڈسکاؤنٹ کی پیشکش کرتی رہیں۔ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ صحت انشورنس پالیسی میں تھرڈ پارٹی ایڈمنسٹریٹرز( جو انشورنس پالیسی میں پالیسی ہولڈر کی جگہ اسپتالوں اور کلینکس کو ادائیگی کرتے ہیں) چاہتے تھے کہ ادویات کی قیمتوں میں کمی کیجائے۔
ہیلتھ رائیٹ کے چیف آپریٹنگ آفیسر وکاس کاتوچ کا کہنا ہے کہ ادویات پر5 سے 10 فیصدرعایت ایک عام روش بنتی جارہی ہے اور اس حوالے سے
تھرٹ پارٹی ایڈمنسٹریٹرز اصرار بھی کررہے تھے لیکن 20 فیصد تک رعایت کو کسی بھی طور پر مستقل برقرار رکھنا ممکن نہیں تھا۔
Source: Gulf News







