
خلیج اردو
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں کہا ہے کہ 19 سال بعد آئینی عدالت کا قیام حقیقت بننے سے شہید بینظیر بھٹو کی روح کو اطمینان پہنچا ہوگا اور نواز شریف سرخرو ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل چارٹر آف ڈیموکریسی کے عروج کی علامت ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ نیشنل فنڈنگ کمیشن (این ایف سی) اور اٹھارویں آئینی ترمیم میں مشاورت کے بغیر کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والے اراکین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایوان نے قومی اتحاد کو فروغ دیا ہے، لہٰذا گالم گلوچ اور تلخی کو ختم کرنا ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ چیف جسٹس جسٹس یحییٰ آفریدی ہی چیف جسٹس آف پاکستان رہیں گے اور آئینی صورتحال میں اب ابہام باقی نہیں رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت نے آرمی چیف کو فیلڈ مارشل کا عہدہ دیا اور سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے وانا اکیڈمیٹ کالج حملے کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ اُس واقعے نے اے پی ایس حملے کی یاد تازہ کر دی، اور بتایا کہ حملہ آوروں میں افغان باشندے بھی شامل تھے تاہم اس موقع پر اساتذہ اور طلبا کو حفاظت سے نکالا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد کی کچہری میں بھی دہشتگردانہ واقعہ پیش آیا اور افغان عبوری حکام کو متعدد بار دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت کی گئی، مگر یہ ممکن نہیں کہ افغانستان ہمیں جھوٹے یا سچے وعدے دے کر معاملات چلا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کو پہلے بھی منہ توڑ جواب دیا گیا اور مستقبل میں بھی دیا جائے گا۔
شہباز شریف نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سیاسی اختلافات کو پسِ پشت رکھ کر مل بیٹھ کر پالیسی بنائی جائے، اور اس سلسلے میں اپوزیشن کو مل بیٹھنے کی دعوت دی۔ انہوں نے پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ بھارت کی کارروائیوں سے پوری طرح آگاہ ہیں اور پہلے بھی جواب دیا گیا، اب بھی دیا جائے گا۔
وزیراعظم نے زور دیا کہ ایوان میں قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے یکجہتی اور تحمل کا مظاہرہ کیا جائے تاکہ آئینی، سلامتی اور قومی مفاد کے مسائل میں مستقل حل نکل سکے۔
قومی اتحاد، آئینی استحکام اور داخلی سلامتی کے لیے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔







