متحدہ عرب امارات

سعودی عرب نے خلیجی ممالک کیلئے درآمدات کے قواعد میں تبدیلی کر دی

خلیج اردو
دبئی : سعودی عرب نے گلف کوآپریشن کونسل کے 5 ممالک کیلئے برآمدات سے متعلق قواعد میں تبدیلی کر دی۔ ان ممالک میں بننے والی مصنوعات پر ڈیوٹی ختم کرنے کیلئے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔

سعودی مملکت کا مقصد اپنی معیشت میں وسعت لانا ہے اور تیل پر اپنی انحصار کم کرنا ہے جس سے شہریوں کو مزید نوکریاں دینا ہے۔

سعودی عرب جی سی سی ٹیرف معاہدے میں ان کمپنیوں کو نکالا جائے گا جو 25 فیصد سے کم مقامی اسٹاف کے ساتھ کام کرے اور مصنوعات بنانے میں 40 فیصد سے کم حصہ ڈالیں۔

سعودی گزٹ کے مطابق فری زون میں بنائے جانے والی مصنوعات کو مقامی تصور نہیں کیا جائے گا۔

فری زونز وہ علاقے ہیں جس میں غیر ملکی کمپنیاں کام کر سکتی ہیں اور ان پر کم قواعد لاگو ہوتے ہیں اور جہاں غیر ملکیوں کو اجازت ہوتی ہے کہ وہ 100 فیصد ملکیتی حقوق اپنے پاس رکھے۔

اعلامیہ کے مطابق وہ مصنوعات جو اسرائیل میض بنی ہوں اور ان کی ملکیت اسرائیل کے ساتھ جزوی یا مکمل طور پر ہو اور وہ کمپنیاں جو عرب بائیکاٹ مہم میں ہوں ، کو نااہل کیا جائے گا۔

اس سے قبل متحدہ عرب امارات اور اسرائیل نے مئی میں ایک معاہدہ دستخط کیا جس کا مقصد کاروباری ترقی ہے اور یہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے بعد ہوا ہے۔

ستمبر 2020 میں ابراہم ایکارڈ کے تحت بحرین نے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے ہیں۔

سعودی عرب نے کاروبار سے متعلق حالیہ اعدادوشمار کے بعد یہ تبدیلی کی ہے۔

Source : Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button