
خلیج اردو
ابوظہبی: سات سالہ اماراتی بچی مہرہ البلوشی نے بون میرو ٹرانسپلانٹ کے بعد نئی زندگی حاصل کر لی۔ یاس کلینک اور ابو ظہبی اسٹیم سیلز سینٹر (اے ڈی ایس سی سی) نے بچی کی متاثر کن صحت یابی کی کہانی بیان کی ہے، جو ایک نایاب اور جان لیوا جینیاتی بیماری "آئی ٹی کے ڈفیشینسی” کا شکار تھی۔ یہ بیماری اس کے مدافعتی نظام کو کمزور کر چکی تھی جس کی وجہ سے وہ بار بار اور خطرناک انفیکشنز میں مبتلا ہو رہی تھی۔
ڈاکٹرز کے مطابق مہرہ کی زندگی بچانے کا واحد راستہ بون میرو ٹرانسپلانٹ تھا۔ تفصیلی ٹیسٹوں کے بعد اس کی بڑی بہن مریم بہترین ڈونر ثابت ہوئیں۔ خاندان کی حمایت کے ساتھ سات ماہ قبل یہ پیچیدہ آپریشن کامیابی سے کیا گیا۔ آج مہرہ مکمل صحت یاب ہے اور اپنی زندگی نارمل انداز میں گزار رہی ہے۔ وہ نہ صرف صحت مند ہے بلکہ اپنی والدہ کے تعاون سے "میچا ٹی اینڈ آئس کریم” کے نام سے ایک چھوٹا کاروبار بھی شروع کر چکی ہے جو اس کی ہمت اور حوصلے کی علامت ہے۔
یاس کلینک – خلیفہ سٹی میں اس کامیابی کو اجاگر کرنے کے لیے "کلاؤڈ نائن” اسٹینڈ قائم کیا جائے گا جس میں مہرہ کی کہانی اور اس کا کاروبار پیش کیا جائے گا۔ طبی عملے کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی ٹیم ورک اور جدید طبی سہولتوں کی بدولت ممکن ہوئی۔
چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر میسون الکرام نے کہا کہ یہ کامیابی صرف طبی جدت کی علامت نہیں بلکہ ایک ننھی بچی کی استقامت اور امید کی بھی کہانی ہے جو سب کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث ہے۔ نرسنگ ڈائریکٹر دینا الموزین نے بھی کہا کہ مہرہ کی صحت یابی ہمت، ہمدردی اور ٹیم ورک کی اہمیت اجاگر کرتی ہے۔
یہ کامیابی یو اے ای کی صحت کے شعبے میں جدت اور مریضوں کے لیے جدید سہولتوں کی فراہمی کے عزم کو ظاہر کرتی ہے تاکہ سنگین امراض کے بعد نہ صرف علاج ممکن ہو بلکہ مریض ایک بار پھر صحت مند اور خوشگوار زندگی گزار سکیں۔







