
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے 34 ارب درہم کے نئے ‘گولڈ لائن’ دبئی میٹرو منصوبے کا اعلان کیا ہے، جو شہر کا سب سے بڑا ٹرانسپورٹ پروجیکٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ مکمل طور پر زیرِ زمین 42 کلومیٹر طویل لائن ہوگی جو 15 اہم علاقوں سے گزرے گی۔
یہ منصوبہ ریڈ اور گرین لائنز کو آپس میں جوڑے گا اور اتحاد ریل سے بھی منسلک ہوگا۔ منصوبے کے مطابق میٹرو کی گہرائی 40 میٹر تک ہوگی اور یہ 9 ستمبر 2032 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
شیخ محمد نے کہا کہ یہ منصوبہ دبئی کے 1.5 ملین سے زائد رہائشیوں کو سہولت دے گا اور شہر میں جاری 55 بڑے رئیل اسٹیٹ منصوبوں سے رابطہ بہتر بنائے گا۔
منصوبے کے تحت سالانہ 4 کروڑ سے زائد سفر کم ہوں گے جبکہ ریڈ لائن پر دباؤ میں نمایاں کمی آئے گی۔ اس کے علاوہ مجموعی میٹرو نیٹ ورک 120 کلومیٹر سے بڑھ کر 162 کلومیٹر تک پہنچ جائے گا اور اسٹیشنز کی تعداد 85 ہو جائے گی۔
گولڈ لائن الغبیبہ سے شروع ہو کر بزنس بے، سٹی واک، محمد بن راشد سٹی، جمیرا ولیج سرکل اور دیگر اہم علاقوں سے گزرتی ہوئی جمیرا گالف اسٹیٹس پر ختم ہوگی۔ یہ لائن اتحاد ریل اور ریڈ و گرین لائنز کے ساتھ براہِ راست منسلک ہوگی۔
حکام کے مطابق اس منصوبے میں جدید ٹنلنگ ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی تاکہ روزمرہ ٹریفک اور شہری زندگی متاثر نہ ہو۔ ٹینڈرنگ 2026 میں اور تعمیرات 2027 میں شروع ہونے کا امکان ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ نہ صرف ٹریفک میں کمی لائے گا بلکہ طویل مدت میں دبئی کی معیشت اور شہری ترقی پر نمایاں اثر ڈالے گا۔







