
خلیج اردو
دمشق: شام کی نئی حکومت اپنی کمزور معیشت کو سنبھالنے اور عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے کرنسی کی ری ڈینومینیشن کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس اقدام کے تحت لیرہ سے دو صفر ختم کیے جائیں گے اور نئی کرنسی نوٹ جاری کیے جائیں گے۔ شام کی کرنسی نے 2011 میں جنگ کے آغاز سے اب تک اپنی قدر کا 99 فیصد سے زائد کھو دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بشارالاسد کے دسمبر میں اقتدار سے ہٹنے اور 14 سالہ خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد یہ اقدام نہ صرف روزمرہ لین دین کو آسان بنانے بلکہ اسد خاندان کی علامتی وراثت کو بھی مٹانے کی کوشش ہے، کیونکہ موجودہ کرنسی پر بشار الاسد اور حافظ الاسد کی تصاویر موجود ہیں۔
اس وقت ایک امریکی ڈالر تقریباً 10 ہزار شامی لیرہ کے برابر ہے، جبکہ جنگ سے پہلے یہی شرح 50 لیرہ تھی۔ عام خاندانوں کو بنیادی اشیائے خوردونوش خریدنے کے لیے ہزاروں کے نوٹوں سے بھرے تھیلے اٹھانے پڑتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مرکزی بینک نے کمرشل بینکوں کو آگاہ کیا ہے کہ وہ "زیرو ختم شدہ” نئی کرنسی متعارف کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ مالی لین دین اور نقدی کے حجم پر قابو پایا جا سکے۔ بینک کے نائب گورنر مخلص النذیر نے اس حوالے سے اجلاسوں کی قیادت کی، تاہم حکام نے باضابطہ تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
تین بینکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ شام نے روسی سرکاری کمپنی گوزناک سے نئے نوٹ چھپوانے کا معاہدہ کیا ہے۔ یہ معاہدہ شام کے اعلیٰ سطحی وفد کے جولائی کے آخر میں ماسکو کے دورے کے دوران طے پایا۔
شام کی نئی قیادت نے معیشت کو نسبتاً آزاد مارکیٹ ماڈل کی طرف لے جانے اور غیر ملکی کرنسی کے استعمال پر پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم عملی طور پر ڈالر کی اجارہ داری ہے اور اشیاء کی قیمتیں ڈالر میں ہی لکھی جا رہی ہیں۔
ماہرین معیشت نے اس اقدام کو محتاط انداز میں دیکھا ہے۔ ماہر معاشیات اور اقوام متحدہ کے مشیر کرم شعر کا کہنا ہے کہ زیرو ختم کرنے اور اسد خاندان کی تصاویر ہٹانے کی سیاسی اہمیت ضرور ہے لیکن اس سے صارفین، خاص طور پر بزرگ افراد، میں الجھن پیدا ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت زیادہ مالیت والے نوٹ مثلاً 20 ہزار یا 50 ہزار لیرہ جاری کرکے بھی لین دین اور نقدی ذخیرہ کرنے کے مسائل حل کرسکتی تھی، جس سے مکمل کرنسی اصلاح کے بھاری اخراجات سے بچا جا سکتا تھا۔







