
خلیج اردو
دبئی: کویت کی سینٹرل جیل کے ایک اہلکار کو منشیات اسمگل کرنے کی کوشش پر گرفتار کر کے پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اہلکار نے اپنی سیکیورٹی پوزیشن کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے قیدی کو نشہ آلود کاغذات پہنچانے کی کوشش کی۔
جیل انتظامیہ کے مطابق اہلکار کو اس وقت روکا گیا جب وہ سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر شدید پسینے اور گھبراہٹ کی حالت میں مشکوک نظر آیا۔ تلاشی لینے پر اس کے جسم کے حساس حصے سے نو کاغذات برآمد ہوئے جو ایک کیمیائی نشے میں بھیگے ہوئے تھے۔
تحقیقات میں ملزم نے اعتراف کیا کہ یہ کاغذات اسے ایک نامعلوم شخص نے جیل کے باہر دیے تھے اور یہ ترسیل ایک قیدی کی ایما پر کی جا رہی تھی جس نے مالی فائدے کا وعدہ کیا تھا۔
جیل انتظامیہ نے اس جرم کی سنگینی پر زور دیتے ہوئے معاملہ پراسیکیوشن کے سپرد کر دیا ہے۔ وزارتِ داخلہ کی جانب سے مجوزہ قانون سازی کے مطابق ایسے سرکاری اہلکاروں کے لیے سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں جو اپنی پوزیشن کا غلط استعمال کر کے منشیات جیلوں میں پہنچانے کی کوشش کریں، جن میں سزائے موت بھی شامل ہے۔
قانون کے مطابق اگر منشیات قیدیوں میں تقسیم کی جائیں، یا اس کے عوض مالی یا دیگر فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی جائے، تو اس صورت میں بھی مجرم سزائے موت کا مستحق قرار پائے گا۔
مزید برآں، ترمیمی قانون میں شادی کے لائسنس، ڈرائیونگ پرمٹ یا سرکاری ملازمت کے امیدواروں کے لیے لازمی ڈرگ ٹیسٹ کی شق بھی شامل کی گئی ہے تاکہ ملک میں منشیات کے استعمال اور ترسیل کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔





