
خلیج اردو
دبئی: 31 مئی 2025
متحدہ عرب امارات میں عید الاضحیٰ کی تعطیلات 5 سے 8 جون کے دوران متوقع ہیں، مگر اسکول اساتذہ کی ایک بڑی تعداد تنخواہوں میں غیر منصفانہ کٹوتیوں پر شدید تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ عید سے قبل چند دن کی چھٹی لیتے ہیں تو ادارے نہ صرف وہ دن، بلکہ مکمل ہفتہ، بشمول سرکاری تعطیلات اور ویک اینڈ، کی تنخواہ کاٹ لیتے ہیں۔
فیڈرل ڈکری لا نمبر 33 آف 2021 کے آرٹیکل 28 کے مطابق، ملازمین سرکاری تعطیلات کے دوران مکمل تنخواہ کے حقدار ہیں۔ اگر کوئی تعطیل سالانہ چھٹی کے دوران آتی ہے، تو اسے نہ تو تنخواہ میں سے کاٹا جا سکتا ہے اور نہ ہی چھٹیوں کے بیلنس سے۔
تاہم اساتذہ کا کہنا ہے کہ کئی نجی اسکولوں میں اس قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ ایک برٹش نصاب اسکول کی خاتون استاد نے بتایا:
"میں نے صرف تین دن کی چھٹی لی ہے تاکہ عید سے قبل خاندان سے مل سکوں، مگر ایچ آر نے پورے ہفتے کی تنخواہ کاٹنے کا فیصلہ سنا دیا ہے، جس میں عید اور ہفتہ وار تعطیلات بھی شامل ہیں۔”
اساتذہ کا کہنا ہے کہ یہاں تک کہ اگر صرف پیر کی چھٹی لی جائے تو اسے اتوار کے ساتھ ملا کر دو دن کی تنخواہ کاٹی جاتی ہے۔ شارجہ کے ایک استاد نے کہا:
"ہم سمجھتے ہیں کہ جتنے دن کی ہم نے چھٹی لی ہے، اتنے دن کی تنخواہ کٹے۔ مگر سوال یہ ہے کہ عید اور ہفتہ وار تعطیلات کیوں کاٹی جاتی ہیں؟”
یہ طرزِ عمل صرف کسی ایک نصاب یا اسکول تک محدود نہیں۔ ایک تجربہ کار استاد کے مطابق،
"یہ ایک غیر تحریری اصول ہے جو برٹش ہو یا انڈین نصاب، سب اسکولوں میں موجود ہے۔”
قانونی مؤقف واضح: ادارے قانون پر عمل کریں
اس مسئلے پر جب خلیج ٹائمز نے دبئی کے نجی اسکولوں کے نگران ادارے KHDA سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ملازمت کے معاہدات اور تنخواہ کٹوتی کے معاملات وزارتِ انسانی وسائل و اماراتی کاری (MoHRE) کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
وزارت کے ترجمان نے واضح کیا:
"عید کی تعطیلات، عید کی ہی تعطیلات ہیں، اور اداروں کو قانون پر عمل کرنا چاہیے۔”
ایک نجی اسکول کی پرنسپل نے اعتراف کیا کہ ان کا ادارہ عید سے قبل کی کسی بھی چھٹی کو مکمل بریک سے جوڑ کر تنخواہ کاٹتا ہے۔ مگر اساتذہ کہتے ہیں:
"سالوں سے اگر کوئی غلط طریقہ چل رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ درست ہو گیا۔ باقی ادارے ایسا کیوں نہیں کرتے؟ کیا اسکول قانون سے بالاتر ہیں؟”
عید کی آمد کے پیشِ نظر اساتذہ اسکول انتظامیہ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اس غیر منصفانہ پالیسی کو ختم کریں اور وفاقی قانون کی پاسداری کریں۔







