متحدہ عرب امارات

دوسری شہریت خریدنے والے ہزاروں یو اے ای رہائشی غیر یقینی صورتحال سے دوچار

خلیج اردو
دبئی، 5 جولائی – متحدہ عرب امارات میں رہنے والے ہزاروں افراد، جنہوں نے دومینیکا، سینٹ کٹس اینڈ نیوس، سینٹ لوشیا، کمبوڈیا اور مصر جیسے ممالک سے سرمایہ کاری کے بدلے شہریت (CBI) حاصل کی، ایک غیر متوقع بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ کئی افراد نے اپنی زندگی کی جمع پونجی ان پروگرامز میں لگا دی تھی، اس امید کے ساتھ کہ یہ پاسپورٹس عالمی سفری آزادی، ٹیکس فوائد اور مستقبل کے تحفظ کی ضمانت ہوں گے۔

صورتحال اُس وقت سنگین ہوئی جب 14 جون کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک میمورنڈم پر دستخط کیے، جس میں 36 ممالک — جن میں کئی CBI پروگرام والے ممالک شامل ہیں — کو 60 دن کی مہلت دی گئی کہ وہ سخت چھان بین اور معلومات کے تبادلے کے معیار پر پورا اتریں، بصورت دیگر انہیں ویزہ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ ڈیڈ لائن 13 اگست 2025 کو ختم ہو رہی ہے۔ یورپی یونین بھی ایسی قانون سازی کی طرف بڑھ رہی ہے جس کے تحت کمزور نگرانی والے ممالک کے لیے شینگن ویزا فری رسائی معطل کی جا سکتی ہے، جس کا اطلاق ستمبر سے ممکن ہے۔

خاص طور پر بھارت، جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کے لیے یہ تبدیلیاں نہایت اہمیت رکھتی ہیں۔ سیکنڈ پاسپورٹ کئی خاندانوں کے لیے عالمی سفر اور مالی آزادی کا ذریعہ بن گیا تھا، جس کے لیے وہ عام طور پر $115,000 سے $330,000 تک کی سرمایہ کاری کرتے تھے۔

"یہ ایک مکمل بحران ہے جس کی کسی نے پیش گوئی نہیں کی تھی،” دبئی کی Bayat Legal Services کے بانی سام بیات نے کہا۔ "لوگوں نے سیکنڈ سٹیزن شپ کو آزادی کی ضمانت سمجھ کر لاکھوں ڈالر لگائے تھے، اور اب وہ پاسپورٹس بے کار ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔”

یو اے ای میں صورتحال زیادہ تشویشناک ہے، جہاں 90 فیصد سے زائد آبادی تارکین وطن پر مشتمل ہے۔ اگرچہ مکمل ڈیٹا دستیاب نہیں، لیکن بیات کے مطابق خطے سے 10,000 سے زائد درخواستیں دی گئی تھیں، جن میں اوسطاً تین افراد فی درخواست کے حساب سے 30,000 افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔

یورپی کمیشن کے مطابق مشرقی کریبین کے پانچ CBI ممالک — انٹیگوا و باربوڈا، دومینیکا، گریناڈا، سینٹ کٹس اینڈ نیوس، اور سینٹ لوشیا — نے 2014 سے 2024 کے درمیان ایک لاکھ سے زائد شہریتیں جاری کیں۔

بھارتی شہریوں کے لیے یہ مسئلہ سب سے شدید ہے، کیونکہ بھارت دوہری شہریت کی اجازت نہیں دیتا۔ کئی بھارتی شہریوں نے CBI پروگرامز کی خاطر اپنی بھارتی شہریت ترک کر دی تھی۔ Henley & Partners کی رپورٹ کے مطابق 2023 میں 4,300 مالدار بھارتیوں نے اپنی شہریت چھوڑ دی، جن میں اکثریت نے کریبین یا دیگر ممالک کی شہریت حاصل کی۔

ایک دبئی میں مقیم بھارتی باشندے، جنہوں نے 2022 میں سینٹ لوشیا کا پاسپورٹ حاصل کیا، نے کہا: "ہم نے یہ قدم اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے اٹھایا تھا، مگر اب سب کچھ غیر یقینی لگ رہا ہے۔”

سام بیات نے خبردار کیا کہ یہ صرف پالیسی کی تبدیلی نہیں بلکہ بہت سے خاندانوں کے لیے ذاتی بحران ہے، خصوصاً ان کے لیے جنہوں نے جائیداد بیچی یا اپنی بچتیں اس مقصد کے لیے استعمال کیں۔

خلیج میں ایسی کئی مقامی ایجنسیاں، جنہوں نے ان پاسپورٹ پروگرامز کو کم خطرناک اور زیادہ فائدہ مند سرمایہ کاری کے طور پر پیش کیا تھا، اب شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ بیات کے مطابق: "یہ اُن درجنوں کمپنیوں کے خاتمے کا آغاز ہو سکتا ہے جن کا سارا کاروبار کریبین پاسپورٹ پر منحصر تھا۔”

یورپی کمیشن نے 2023 میں اپنی رپورٹ میں 88,000 "گولڈن پاسپورٹس” پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، جن کی چھان بین کے طریقے مشکوک قرار دیے گئے تھے۔ امریکہ کی نئی پالیسی کمبوڈیا اور مصر جیسے ممالک کو بھی نشانہ بنا رہی ہے، جو اس بات کا عندیہ ہے کہ مسئلہ اب صرف کریبین تک محدود نہیں رہا۔

"صرف سطحی اصلاحات کافی نہیں ہوں گی،” بیات نے کہا۔ "جب تک پروگرامز میں شفافیت، رہائشی تقاضے، اور عوامی احتساب شامل نہیں کیا جاتا، یہ پروگرام سکیورٹی رسک سمجھے جاتے رہیں گے۔”

ایسے ممالک جیسے سینٹ کٹس یا دومینیکا، جن کی معیشت کا انحصار شہریت فروخت کرنے پر ہے، ان کے لیے ممکنہ امریکی پابندیاں تباہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔

اس غیریقینی صورتحال کے دوران کئی افراد متبادل راستوں پر غور کر رہے ہیں، جن میں یو اے ای کا 10 سالہ گولڈن ویزا خاص طور پر مقبول ہو رہا ہے۔ Rayad Group Immigration Services کے ڈائریکٹر ریاد ایوب کے مطابق، "مارکیٹ اب فوری شہریت کے بجائے پائیدار اور معتبر راستوں کی طرف جا رہی ہے۔”

بیات نے واضح کیا: "سرمایہ کاری کے ذریعے شہریت کا تصور زیرِ حملہ نہیں، مسئلہ اس کے غلط استعمال کا ہے۔” امریکہ اور یورپی یونین کا پیغام واضح ہے: "اصلاح کرو، ورنہ دروازے بند کر دیے جائیں گے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button