متحدہ عرب امارات

یو اے ای: یونیورسٹی کے ہر تین میں سے ایک طالبعلم میں اے ڈی ایچ ڈی کی علامات؛ خواتین زیادہ متاثر، تحقیق

خلیج اردو
یو اے ای میں 2024 کی ایک تحقیق کے مطابق 13.6 سے 34 فیصد یونیورسٹی طلبہ میں توجہ کی کمی اور حد سے زیادہ سرگرمی (ADHD) سے جڑی علامات پائی گئی ہیں، جبکہ خواتین میں یہ شرح مردوں کے مقابلے میں زیادہ دیکھی گئی۔ ماہرین کے مطابق بالغ افراد میں ADHD کی بڑھتی ہوئی آگاہی اور جدید طرزِ زندگی کے بوجھ نے ان علامات کو پہلے سے زیادہ نمایاں کر دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جوانی میں قدم رکھتے ہی وہ علامات سامنے آنا شروع ہو جاتی ہیں جو اسکول کے نظم و ضبط یا والدین کی مدد سے چھپی رہتی تھیں۔ دبئی کے تھرائیو ویل بیئنگ سینٹر کی ماہرِ نفسیات لنڈی نھلاپو کے مطابق بالغ ہونے کے ساتھ ذمہ داریاں بڑھتی ہیں اور یہی دباؤ علامات کو مزید واضح کر دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ذہنی دباؤ بڑھتا ہے تو بھولنے کی عادت، کاموں سے بچنا یا حد سے زیادہ ذمہ داریاں لینا نمایاں ہوجاتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ کئی نوجوانوں میں ہائپر ایکٹیویٹی اب جسمانی حرکت کی بجائے ذہنی بے چینی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ توجہ کی کمی مسلسل ذہنی تھکاوٹ، کاموں کو تقسیم نہ کر پانے اور توجہ برقرار رکھنے میں مشکل بن سکتی ہے۔ تحقیق 18 سے 20 سال کے 406 نوجوانوں پر کی گئی جس میں خواتین میں ADHD کی علامات کی شرح زیادہ پائی گئی، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ خواتین کی اسکریننگ میں ممکنہ خلا موجود ہے۔

ڈیجیٹل اسکرینز اور مسلسل مصروفیت بھی علامات بڑھا سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق مسلسل ڈیجیٹل نوٹیفکیشنز، سرگرمیوں کے بیچ تیز تبدیلی اور حسی دباؤ ADHD کی بنیادی علامات کو شدت دے دیتے ہیں، اگرچہ یہ بیماری کا باعث نہیں بنتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ADHD زندگی کے مختلف شعبوں کو متاثر کرتا ہے، خصوصاً تعلقات۔ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ جن جوڑوں میں ایک فرد ADHD کا شکار ہو، ان میں غلط فہمیوں، جذباتی دباؤ اور علیحدگی کے امکانات عام جوڑوں کے مقابلے میں تقریباً دگنے ہوسکتے ہیں۔ البتہ ماہرین واضح کرتے ہیں کہ ADHD تعلقات تباہ نہیں کرتا، مگر سمجھ بوجھ کا فقدان مسائل کو بڑھا دیتا ہے۔

ڈاکٹر مانویلا پاؤنے کے مطابق ADHD رکھنے والے افراد وجدان، تخلیقی صلاحیت اور جذباتی وابستگی جیسے مثبت پہلو بھی لاتے ہیں، مگر جب بھول جانا یا بے توجہی کو عدم دلچسپی سمجھ لیا جائے تو مسائل جنم لیتے ہیں۔ تعلقات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ علاج، رہنمائی اور اپنے رویوں کو سمجھنا اس سلسلے میں اہم قدم ہیں۔

ماہرین کے مطابق بروقت آگاہی نہ صرف تعلیمی کارکردگی بلکہ تعلقات اور روزمرہ زندگی میں تناؤ کم کرنے میں مدد دیتی ہے، اور نوجوان اپنی زندگی کو بہتر طور پر منظم کر سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button