متحدہ عرب امارات

دبئی میں فوریکس آفس کی اچانک بندش؛ یو اے ای کے سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان، دفتر خالی اور تالا بند ملا

خلیج اردو
دبئی کے بزنس بے کے ایک ٹاور کی نویں منزل چند ہفتے پہلے تک سرگرمیوں کا مرکز تھی جہاں تقریباً 100 ملازمین فوریکس ٹریڈنگ میں ’گارنٹیڈ منافع‘ کی پیشکش کرتے ہوئے یو اے ای کے رہائشیوں کو مسلسل کالز کر رہے تھے۔ لیکن اس ہفتے جب خلیج ٹائمز وہاں پہنچی تو منظر یکسر بدل چکا تھا — دفتر مکمل طور پر بند، اندھیرا اور خالی تھا۔

دفتر کے دروازے پر دبئی کورٹس کے اسٹیکرز چسپاں تھے جن میں بتایا گیا تھا کہ کمپنی کو قانونی نوٹس دے دیا گیا ہے اور ان اسٹیکرز کو نہ ہٹانے کی تنبیہ کی گئی تھی۔ اندر نظر آنے والے مناظر ظاہر کرتے تھے کہ دفتر شاید فوری طور پر چھوڑا گیا — کھلی فائلیں، آدھے کھینچے ہوئے کرسیاں، میزوں پر بکھرے کافی کے مگ، پانی کی بوتلیں اور ملازمین کے ذاتی بیگز۔

اچانک بندش نے سیکڑوں سرمایہ کاروں کو اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ کئی افراد کا کہنا ہے کہ جیسے ہی انہوں نے رقم منتقل کی، کمپنی سے ہر قسم کا رابطہ ختم ہوگیا۔ فون کالز غیرجواب، میسجز نظرانداز، اور وہی ’ریلیشن شپ مینیجرز‘ جو پہلے پیچھے پڑے رہتے تھے، بالکل خاموش ہوگئے۔

ایک رہائشی جس نے ایک لاکھ درہم سے زائد کھوئے، دروازہ بند دیکھ کر کہنے لگا: "کم از کم اب مجھے یقین ہو گیا کہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔ شاید قانون ان تک پہنچ چکا ہے۔”

دبئی کے رہائشی ایس کے نے بتایا کہ انہوں نے 6 لاکھ 24 ہزار درہم (170,000 ڈالر) کھوئے اور اب بُردبئی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرا چکے ہیں۔ کیس پراسیکیوشن میں جا چکا ہے۔

کمپنی اپنی ویب سائٹ پر خود کو عالمی معیار کا پلیٹ فارم ظاہر کرتی تھی، لیکن اب چند ہفتے بعد اس کا کوئی نشان باقی نہیں۔

سرمایہ کار کیسے ٹھگے گئے

خلیج ٹائمز کی تحقیق سے انکشاف ہوا کہ سرمایہ کاروں کی رقم ان کمپنیوں کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئی جن کے نام تقریباً ایک جیسے تھے، جن میں ایک ’ایونٹس مینجمنٹ‘ کمپنی بھی شامل تھی جو ساتھ والے دفتر سے کام کر رہی تھی۔
سرمایہ کاروں کو گمان تھا کہ ان کی رقم ریگولیٹڈ ٹریڈنگ اکاؤنٹس میں جا رہی ہے، لیکن حقیقت مختلف نکلی۔

ایک رہائشی ایچ بی نے بتایا کہ اس نے 73 ہزار درہم سے زائد سرمایہ لگایا، اور جب منافع نکالنے کی کوشش کی تو اسے مزید رقم جمع کرانے کو کہا گیا۔ اسی وقت اسے احساس ہوا کہ وہ دھوکے کا شکار ہو چکا ہے۔

ایک اور شخص کا سابق مینیجر بعد میں ایک نئی بروکریج میں ملا، جس نے پیسہ واپس دلانے کی پیشکش کی — لیکن شرط یہی کہ وہ نئی پلیٹ فارم میں مزید سرمایہ جمع کرائے۔

نیا پلیٹ فارم، پرانے خطرے

کے ٹی نے جس نئے پلیٹ فارم کا جائزہ لیا، اس میں شدید خدشات سامنے آئے۔ کمپنی سینٹ لوشیا کے ’راؤڈنی بے‘ میں رجسٹرڈ تھی — وہی پتہ جہاں کئی مشتبہ فوریکس کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں جو بعد میں غائب ہو گئیں۔
اس کی رجسٹریشن بھی چند ماہ پہلے ہی کی گئی تھی۔

زبردستی خسارے اور اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی

ایک اور رہائشی نے بتایا کہ اس کے ٹریڈنگ اکاؤنٹ میں بغیر اجازت لاگ ان کر کے نقصان دہ ٹریڈز کی گئیں، جس سے وہ بچت بھی ختم ہوگئی جو اس نے نکالنے کی کوشش کی تھی۔

ایس صدیقی، جنہوں نے 30 ہزار ڈالر کھوئے، نے کہا کہ طریقۂ واردات بالکل وہی تھا جو پہلے کی کئی فوریکس کمپنیوں میں دیکھا گیا: سرمایہ کاروں کو زیادہ رقم لگانے پر مجبور کرنا، مشکل کرنسی جوڑوں پر ٹریڈ کرانا، اور بڑے اسپریڈ کے ذریعے فوراً خسارہ کروانا۔

خلیج ٹائمز کی جون 2025 کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ دبئی میں اس طرح کے کم از کم سات کال سینٹر سرگرم تھے، جن کے اسٹاف بعد میں کریک ڈاؤن کے بعد بھارت کے گُڑگاؤں منتقل ہو گئے۔
جولائی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ نوئیڈا اور جے پور میں تین کال سینٹر دبئی کے نام سے چل رہے تھے جبکہ VOIP کے ذریعے +971 نمبرز ظاہر کرتے تھے۔

متعدد وارننگز کے باوجود نقصانات بڑھ رہے ہیں

یو اے ای حکام کئی بار خبردار کر چکے ہیں کہ غیر لائسنس یافتہ آن لائن ٹریڈنگ پلیٹ فارمز سے دور رہیں، خاص طور پر وہ جو کولڈ کالز، آف شور پتوں اور غیر واضح ریگولیشن کے تحت کام کرتے ہیں۔

خلیج ٹائمز نے کمپنی سے رابطے کی کوشش کی لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button