
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات نے افغانستان کے شمالی علاقوں میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد متاثرہ افراد تک انسانی ہمدردی کی امداد پہنچانے کے لیے ایک ایئر برج قائم کر دیا ہے۔ زلزلے سے گھروں، اسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا تھا۔
جمعرات کے روز تیسرا اماراتی امدادی طیارہ افغانستان پہنچا، جس کے ساتھ اب تک کل تقریباً 90 ٹن امدادی سامان متاثرہ علاقوں تک پہنچایا جا چکا ہے۔ اسی دوران شمالی افغانستان کے مقامی بازاروں سے بھی اضافی امدادی اشیاء خریدی جا رہی ہیں۔ فراہم کی جانے والی امداد میں خوراک، خیمے، عارضی پناہ گاہوں کا سامان اور طبی امدادی سامان شامل ہے، جس سے دو لاکھ سے زائد افراد کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
افغان حکام کی جانب سے یو اے ای کی بروقت امداد کو سراہا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یو اے ای اس مشکل گھڑی میں افغان عوام کے ساتھ کھڑا ہونے والا پہلا ملک ہے۔ انہوں نے امارات کی انسانی ہمدردی پر مبنی اقدار اور دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام دوستی اور اخوت کی ایک مضبوط مثال ہے۔
افغان حکومت کے ترجمان نے کہا کہ افغانستان یو اے ای کی انسانی ہمدردی پر مبنی امداد پر دلی شکریہ ادا کرتا ہے۔ متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں نے بھی اماراتی قیادت اور عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا، اور امدادی ٹیموں کی تیز اور مؤثر کارکردگی کو سراہا جنہوں نے متاثرین تک فوری امداد پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
اماراتی ریلیف ٹیم کے سربراہ حمود العفاری نے بتایا کہ یو اے ای دنیا بھر میں قدرتی آفات اور انسانی بحرانوں کے دوران ہمیشہ سب سے پہلے امداد فراہم کرنے والے ممالک میں شامل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یو اے ای نے اس سے قبل ہرات زلزلے کے دوران بھی ایک جدید فیلڈ سرجیکل اسپتال قائم کیا تھا اور متاثرین کو ہنگامی طبی اور انسانی امداد فراہم کی تھی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ رواں سال اگست میں کنڑ اور جلال آباد کے صوبے شدید زلزلے سے متاثر ہوئے تو یو اے ای سب سے پہلے جائے وقوعہ پر پہنچا، جہاں 3,618 ٹن سے زائد خوراک، رہائشی سامان اور طبی امداد فراہم کی گئی۔







