متحدہ عرب امارات

دبئی: سستی ایئرلائنز اور کم قیمت سفر کی بڑھتی مانگ کے باعث ٹکٹوں کی قیمتوں میں 35 فیصد کمی

خلیج اردو
دبئی:
: متحدہ عرب امارات میں ہوائی سفر کرنے والوں کے لیے خوشخبری ہے، جہاں گزشتہ 12 برسوں کے دوران فضائی کرایوں میں حقیقی طور پر 35 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ بین الاقوامی ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن  کے مطابق، یہ کمی سستی ایئرلائنز کے آغاز، مسابقت میں اضافے اور بڑھتی سفری طلب کی بدولت ممکن ہوئی۔

ایٹا کی بدھ کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، "گزشتہ 50 برسوں میں دنیا بھر میں فضائی سفر کی لاگت میں 70 فیصد کمی آئی ہے، جس سے ہوائی سفر مزید قابل رسائی ہو گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں 2011 سے 2023 تک ہوائی کرایوں میں 35 فیصد کی کمی دیکھی گئی ہے۔”

اماراتی مارکیٹ میں ایئرعربیہ ابوظبی اور وز ایئر ابوظبی جیسے سستے ایئرلائنز کے آغاز کے ساتھ ساتھ پہلے سے موجود ایمریٹس، الاتحاد، ایئرعربیہ اور فلائی دبئی کی عالمی پروازوں نے صارفین کو مزید متبادل فراہم کیے، جس سے مقابلہ بڑھا اور کرائے کم ہوئے۔

متحدہ عرب امارات کا شمار دنیا کے بہترین فضائی رابطے رکھنے والے ممالک میں ہوتا ہے۔ ملک میں 7 تجارتی ہوائی اڈے، 304 بین الاقوامی ایئرپورٹس سے براہ راست رابطہ، 109 ممالک سے براہ راست پروازیں، روزانہ 857 روانگی کی پروازیں اور 126 فضائی کمپنیاں سرگرم ہیں۔ صرف پچھلے 5 سالوں میں 162 نئی بین الاقوامی روٹس کا اضافہ ہوا ہے۔

ایٹا کے ڈائریکٹر جنرل ویلی والش نے کہا، "متحدہ عرب امارات عالمی رابطوں کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔ اس کی ’سپر کنیکٹر‘ حیثیت ملک میں تجارت، سیاحت، سرمایہ کاری اور روزگار لانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔”

2 دن کی آمدنی سے ہوائی ٹکٹ خریدنے کی صلاحیت
رپورٹ کے مطابق، متحدہ عرب امارات میں اوسط شخص صرف 1.9 دن کی کمائی سے ہوائی ٹکٹ خرید سکتا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق، 2023 میں یو اے ای میں فی کس آمدنی 180,000 درہم تھی، جس کا مطلب ہے کہ ماہانہ اوسط آمدنی 15,000 درہم بنتی ہے۔ اس حساب سے 2 دن میں کمائے گئے 1,000 درہم سے سستی ایئرلائنز کی پروازیں آسانی سے خریدی جا سکتی ہیں۔

دوسری جانب افریقی، بھارتی، پاکستانی اور بعض وسطی ایشیائی ممالک میں افراد کو ایک ہوائی ٹکٹ خریدنے کے لیے 15 دن سے زائد کام کرنا پڑتا ہے۔

تقریباً 10 لاکھ افراد روزگار سے مستفید
ایٹا کے مطابق، متحدہ عرب امارات میں ہوائی سفر سے متعلق شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ 2023 میں ہر 1,000 افراد پر 3,668 پروازیں ریکارڈ کی گئیں۔ صرف ہوابازی کے شعبے میں 206,800 افراد براہ راست ملازم ہیں، جو 26.6 ارب ڈالر کا اقتصادی فائدہ دے رہے ہیں، جو ملک کی جی ڈی پی کا 5.3 فیصد ہے۔

بالواسطہ طور پر، سیاحتی سرگرمیوں، ملازمین کے اخراجات اور سپلائی چین کی بدولت مجموعی طور پر 92 ارب ڈالر کی معیشت اور 991,500 نوکریاں پیدا ہو رہی ہیں۔ ہوابازی کی مدد سے سیاحت کا شعبہ بھی 22 ارب ڈالر جی ڈی پی اور 297,300 ملازمتیں فراہم کرتا ہے، جبکہ بین الاقوامی سیاح ہر سال 47.7 ارب ڈالر کی مقامی خریداری کرتے ہیں۔

2023 میں 34.8 ملین بین الاقوامی مسافروں نے یو اے ای سے روانگی کی، جو کل روانگیوں کا 100 فیصد ہے۔ ایشیا پیسیفک سب سے بڑی مارکیٹ رہی، جہاں 14.1 ملین مسافر روانہ ہوئے، اس کے بعد یورپ (8.5 ملین) اور مشرق وسطیٰ (7.9 ملین) رہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button