متحدہ عرب امارات

اماراتی ارب پتی کا اسرائیلی وزیر کے نسلی اور توہین آمیز بیان پر شدید ردِعمل، سعودی عرب سے معافی ناکافی قرار

خلیج اردو
دبئی: معروف اماراتی کاروباری شخصیت اور الحبتور گروپ کے بانی چیئرمین خلف احمد الحبتور نے اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموترچ کے سعودی عرب سے متعلق "نسلی اور اشتعال انگیز” بیان کی سخت مذمت کی ہے۔

خلف احمد الحبتور نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ اسرائیلی وزیر نے "تضحیک اور تکبر کے ذریعے سب سے بڑے عرب ملک کی توہین کی ہے۔”

اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموترچ نے ایک تقریب میں کہا تھا:
"اگر سعودی عرب ہم سے کہے کہ ‘فلسطینی ریاست کے بدلے تعلقات نارمل کریں’ تو ہمارا جواب ہوگا — نہیں، شکریہ۔ تم صحرا میں اونٹوں پر سواری کرتے رہو، ہم اپنی معیشت، معاشرے اور ریاست کو ترقی دیتے رہیں گے۔”

بیان کے بعد سموترچ نے ایک ویڈیو پیغام میں معذرت کرتے ہوئے اپنے الفاظ کو "غیر مناسب” قرار دیا، تاہم الحبتور نے کہا کہ "ایسی زبانی معافی اتنی بڑی توہین کو ختم نہیں کر سکتی۔”

انہوں نے واضح کیا کہ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ تعلقات کی معمول پر لانے سے ترقی کا راستہ کھلتا ہے، وہ خلیجی ممالک کی اصل ترقیاتی جدوجہد سے ناواقف ہیں۔
"سعودی عرب اور خلیج تعاون کونسل کی ریاستیں توانائی، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور شہری ترقی میں عالمی مثال بن چکی ہیں،” الحبتور نے کہا۔

الحبتور نے مزید کہا کہ "خلیجی ممالک کے اسرائیل سے تعلقات ان کی ترقی کا پیمانہ نہیں۔ دراصل اسرائیل کو اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے عرب دنیا کے ساتھ امن کی ضرورت ہے، نہ کہ اس کے برعکس۔”

انہوں نے اسرائیلی وزیر کے بیان کو "نسلی نفرت اور برتری کے بیمار ذہن کی عکاسی” قرار دیا، جو "عرب عوام کی تاریخ اور عزت کے خلاف واضح تحقیر” ہے۔

الحبتور نے عرب دنیا سے متحدہ موقف اپنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے سوال کیا:
"کیا ہم اس کھلی بے ادبی پر خاموش رہیں گے؟”

اپنے بیان کے اختتام پر انہوں نے کہا:
"عزت کوئی وقتی نعرہ نہیں جسے ضرورت کے وقت بلند کیا جائے، بلکہ یہ ایک اصول ہے جس کا دفاع عمل اور موقف سے کیا جاتا ہے، محض الفاظ سے نہیں۔”

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button