متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات نے قطری سمندری حدود میں تجارتی مال بردار جہاز پر ہونے والے “دہشت گرد ڈرون حملے” کی شدید مذمت کردی، حملے کے نتیجے میں جہاز میں معمولی آگ بھڑک اٹھی تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ حملہ ریاستِ قطر کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور اس کی سلامتی و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

قطری حکام کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والا تجارتی جہاز ابوظبی سے روانہ ہوا تھا اور “میسعید بندرگاہ” کے شمال مشرقی علاقے میں سفر کر رہا تھا۔ قطر نے کہا کہ شہری اور تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے اور یہ علاقائی و عالمی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ بن سکتا ہے۔

قطری وزارت نے کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جائے گا۔

متحدہ عرب امارات نے قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دوحہ اپنی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے جو بھی اقدامات کرے گا، امارات اس کی مکمل تائید کرے گا۔

اماراتی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ حملہ سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2817 کی صریح خلاف ورزی ہے، جس میں بین الاقوامی بحری راستوں کے تحفظ اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی مخالفت کی گئی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانا اور آبنائے ہرمز کو دباؤ یا معاشی بلیک میلنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا قزاقی کے مترادف ہے، جو خطے کے استحکام اور عالمی توانائی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ بن سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق خلیجی پانیوں میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے واقعات سے خطے میں کشیدگی اور عالمی تجارتی راستوں کے تحفظ سے متعلق خدشات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button