متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں فاصلاتی تعلیم میں توسیع، بیرونِ ملک موجود خاندانوں نے واپسی مؤخر کرنے پر غور شروع کر دیا

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر آن لائن تعلیم کے تسلسل کے اعلان کے بعد کئی خاندانوں نے اپنے بچوں کی تعلیم جاری رکھتے ہوئے بیرونِ ملک قیام بڑھانے پر غور شروع کر دیا ہے۔

حکام کے مطابق بہار کی تعطیلات کے بعد بھی دو ہفتوں تک ملک بھر کے اسکولوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں فاصلاتی تعلیم جاری رہے گی تاکہ طلبہ کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے اور تعلیمی عمل متاثر نہ ہو۔

یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب پہلے ہی مارچ کے آغاز میں خطے میں کشیدگی، خاص طور پر ایران کے حملوں کے بعد، کلاسز کو آن لائن منتقل کر دیا گیا تھا اور پھر تعطیلات کو بھی قبل از وقت شروع کیا گیا۔

کئی والدین، جو تعطیلات کے دوران بھارت یا دیگر ممالک گئے ہوئے ہیں، اب اپنی واپسی کے منصوبوں پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ ممبئی میں موجود ایک والدہ نے بتایا کہ “آن لائن تعلیم کے باعث ہم مزید دو ہفتے یہاں قیام کر سکتے ہیں کیونکہ انٹرنیٹ اور وقت کا فرق مسئلہ نہیں ہے، تاہم بچوں کو پڑھائی پر مرکوز رکھنا مشکل ہوتا ہے۔”

دوسری جانب کچھ خاندانوں کو سفری مسائل کا بھی سامنا ہے، جہاں پروازوں کی منسوخی نے واپسی مزید مشکل بنا دی ہے۔ ایک والدہ کے مطابق “آن لائن تعلیم بڑی جماعتوں کے لیے بہتر ہے، مگر چھوٹے بچوں کو مسلسل نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔”

کچھ کیسز میں خاندان دو ممالک میں تقسیم ہو گئے ہیں، جہاں بڑے بچے امتحانات کی تیاری کے لیے یو اے ای میں موجود ہیں جبکہ دیگر افراد بیرونِ ملک ہیں۔ ایک والدہ نے کہا “آخری امتحانات قریب ہیں، اس لیے ہمیں جلد واپس جانا ہوگا تاکہ بچوں کی بہتر رہنمائی کی جا سکے۔”

ماہرین کے مطابق آن لائن تعلیم ہنگامی حالات میں مؤثر حل تو ہے، مگر روایتی کلاس روم جیسا ماحول اور نظم و ضبط برقرار رکھنا خاص طور پر کم عمر طلبہ کے لیے چیلنج رہتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button