
خلیج اردو
عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات سے قطر کی معیشت پر شدید دباؤ پڑ سکتا ہے اور ملک کی جی ڈی پی میں 14 فیصد تک کمی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی حملوں کے باعث قطر کی 17 فیصد گیس پیداوار متاثر ہوئی ہے، جس سے سالانہ تقریباً 20 ارب ڈالر کا نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث قطر کی برآمدات بھی متاثر ہوں گی، جس کا براہِ راست اثر ملک کی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) پر پڑے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال 1990 کی دہائی کے بعد قطر کی سب سے بڑی معاشی گراوٹ ثابت ہو سکتی ہے، اور حکومت کو ممکنہ معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے فوری حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور توانائی کی پیداوار میں کمی عالمی منڈیوں پر بھی اثر ڈال سکتی ہے، اور خطے کے ممالک کو اقتصادی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔







