
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے باہر ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں بجلی کے جنریٹر میں آگ لگ گئی، تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ پلانٹ کی حفاظتی سطح متاثر نہیں ہوئی اور کوئی تابکار مواد خارج نہیں ہوا۔
براکہ پلانٹ ابوظہبی کے علاقے الظفرہ میں واقع ہے اور یہ عرب دنیا کا پہلا تجارتی جوہری توانائی منصوبہ ہے۔
براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ میں جنوبی کوریا کے ڈیزائن کردہ چار اے پی آر 1400 ری ایکٹرز مکمل طور پر فعال ہیں جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 5600 میگاواٹ ہے۔
یہ پلانٹ متحدہ عرب امارات کی تقریباً 25 فیصد بجلی پیدا کرتا ہے، جس سے قدرتی گیس کی بچت اور کاربن اخراج میں کمی ممکن ہوئی ہے۔
اس منصوبے کا 20 ارب ڈالر کا معاہدہ 2009 میں کیا گیا تھا اور تعمیراتی کام 2012 میں شروع ہوا، جبکہ پہلا ری ایکٹر 2020 میں نیشنل گرڈ سے منسلک ہوا اور آخری یونٹ 2024 میں فعال ہوا۔
یہ منصوبہ امریکا اور متحدہ عرب امارات کے درمیان 2009 کے 123 معاہدے کے تحت بنایا گیا، جو جوہری عدم پھیلاؤ کے سخت ترین عالمی معیار کے طور پر جانا جاتا ہے۔
اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات نے اپنے ملک میں یورینیم کی افزودگی اور استعمال شدہ ایندھن کی ری پروسیسنگ سے قانونی طور پر دستبرداری اختیار کی ہے۔
سعودی عرب کے جوہری عزائم
سعودی عرب بھی توانائی کے ذرائع متنوع بنانے کے لیے سویلین نیوکلیئر پروگرام تیار کر رہا ہے، تاہم امریکا کے ساتھ اس کے معاہدے میں یورینیم افزودگی کے حق پر اختلاف برقرار ہے۔
ایران کا بوشہر پلانٹ
بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ ایران کا واحد فعال سول نیوکلیئر ری ایکٹر ہے، جسے جرمنی نے ابتدائی طور پر شروع کیا تھا جبکہ بعد میں روس کے تعاون سے مکمل کیا گیا۔
یہ پلانٹ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی میں کام کرتا ہے، تاہم مغربی ممالک ایران کے جوہری پروگرام پر مسلسل تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔
مصر کا الضبّعہ پلانٹ
الضبّعہ نیوکلیئر پاور پلانٹ مصر کا پہلا نیوکلیئر پاور منصوبہ ہے جو روسی کمپنی روس اٹام کے تعاون سے بنایا جا رہا ہے۔
اس میں چار ری ایکٹرز شامل ہوں گے اور پہلا یونٹ 2028 کے بعد آپریشنل ہونے کی توقع ہے۔
یہ تمام منصوبے خطے میں توانائی کی ضروریات، سیاسی توازن اور جوہری پالیسیوں کے حوالے سے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔







