متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں سنگل یوز پلاسٹک پر پابندی نافذ، ریسٹورنٹس نے خاموشی سے بڑی تبدیلی کر دی

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں یکم جنوری 2026 سے سنگل یوز پلاسٹک پر پابندی کے دوسرے مرحلے کے نفاذ کے ساتھ ہی ملک بھر کے متعدد ریسٹورنٹس اور کیفے ٹیریاز نے ممنوعہ پلاسٹک اشیا کا استعمال ختم کرنا شروع کر دیا ہے، جبکہ بعض کھانے پینے کے مراکز نے قانون کے باضابطہ نفاذ سے پہلے ہی یہ اشیا مرحلہ وار ختم کر دی تھیں۔

کئی کیفے ٹیریاز نے خلیج ٹائمز کو بتایا کہ انہوں نے نومبر 2025 سے ہی سنگل یوز پلاسٹک کی نئی سپلائی منگوانا بند کر دی تھی اور موجودہ اسٹاک ختم ہونے کے بعد دوبارہ آرڈر نہیں دیا۔ سووق الشیخ کیفے ٹیریا کے ایک عملے کے رکن کے مطابق انہیں پہلے سے علم تھا کہ پابندی آنے والی ہے، اس لیے وہ ناقابلِ استعمال اسٹاک میں پھنسنا نہیں چاہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی فوم کپ، پلاسٹک چمچ، کانٹے اور اسٹراؤ ختم ہوئے، انہوں نے انہیں دوبارہ منگوانا بند کر دیا۔

اس کے بعد کیفے ٹیریا نے کاغذی کپ، لکڑی کی کٹلری اور ڈائن اِن صارفین کے لیے دوبارہ استعمال ہونے والے برتن اپنائے، جبکہ ٹیک اوے کے لیے ایسے متبادل کنٹینرز استعمال کیے جا رہے ہیں جو نئے قوانین کے مطابق ہیں۔

شارجہ کے الفائزین کیفے ٹیریا کے شاریق خان کا کہنا ہے کہ ابتدا میں لاگت کے حوالے سے کچھ مشکلات پیش آئیں، مگر صارفین نے اس تبدیلی کو قبول کر لیا ہے اور کئی صارفین اس بات کو سراہ رہے ہیں کہ پلاسٹک کا استعمال پہلے ہی بند کر دیا گیا۔ ان کے مطابق پیشگی منتقلی سے عملے کو نئے طریقۂ کار اپنانے، تربیت حاصل کرنے اور سپلائرز آزمانے کے لیے مناسب وقت مل گیا۔

شارجہ ہی میں دیسی بریانی ریسٹورنٹ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ روزمرہ آپریشنز میں پلاسٹک تقریباً مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ ڈیلیوری آرڈرز کے لیے اب کھانے فوڈ گریڈ ڈبوں میں فراہم کیے جا رہے ہیں اور پلاسٹک بیگز کا استعمال بھی بند کر دیا گیا ہے۔ ریسٹورنٹ کے ایک ڈیلیوری ایجنٹ کے مطابق انہیں معلوم تھا کہ 2026 سے پلاسٹک بیگز اور فوڈ کنٹینرز کی اجازت نہیں ہو گی، اس لیے انہوں نے پہلے ہی اس تبدیلی کا فیصلہ کر لیا تھا۔

انتظامیہ کے مطابق یہ منتقلی توقع سے زیادہ آسان رہی کیونکہ مارکیٹ میں پلاسٹک کی طلب کم ہوتے ہی متبادل مصنوعات کی دستیابی بڑھ گئی تھی۔

صارفین بھی اس تبدیلی کے عادی ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ شارجہ کے رہائشی سید عامر نے بتایا کہ اب کھانا آرڈر کرنے پر پلاسٹک کٹلری یا بیگز نہیں دیے جاتے، اور جب کھانا بغیر پلاسٹک کے ڈبوں میں آتا ہے تو یہ اب غیر معمولی محسوس نہیں ہوتا۔

واضح رہے کہ 2022 میں یو اے ای حکومت نے سنگل یوز مصنوعات سے پیدا ہونے والی آلودگی کم کرنے کے لیے وزارتی فیصلہ نمبر 380 نافذ کیا تھا، جس کے بعد پائیداری اور سرکلر اکانومی کو فروغ دینے کے لیے مزید اقدامات کیے گئے۔ اسی سلسلے میں دبئی کے ولی عہد، نائب وزیراعظم اور وزیر دفاع شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم کی سربراہی میں ایگزیکٹو کونسل کی جانب سے سنگل یوز مصنوعات کے استعمال کو باقاعدہ ضابطے میں لانے کی قرارداد منظور کی گئی تھی، جس پر اب عملی طور پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button