
خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات میں 29 مئی سے ایک نیا میڈیا قانون نافذ العمل ہو گیا ہے، جس کے تحت ملک میں تمام میڈیا سرگرمیوں کے لیے سخت ضابطہ کار متعارف کرایا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت مذہبی عقائد کی توہین یا بغیر لائسنس میڈیا سرگرمیوں پر ایک ملین درہم تک کے جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔
نئے قانون کا مقصد اخلاقی، بااحترام اور ذمہ دار میڈیا کو فروغ دینا ہے۔ اس قانون میں مختلف خلاف ورزیوں پر درج ذیل سزائیں مقرر کی گئی ہیں:
مذہبی اور اخلاقی خلاف ورزیاں:
-
الٰہی ذات، اسلامی عقائد یا دیگر آسمانی مذاہب کی توہین: 10 لاکھ درہم تک جرمانہ
-
عوامی اخلاق کی خلاف ورزی یا تباہ کن نظریات کی تشہیر: 1 لاکھ درہم تک جرمانہ
-
جرائم پر اکسانے والا مواد (قتل، زیادتی، منشیات وغیرہ): ڈیڑھ لاکھ درہم تک جرمانہ
ریاستی اور قومی مفادات سے متعلق خلاف ورزیاں:
-
نظام حکومت، قومی علامات یا ریاستی اداروں کی توہین: 50 ہزار سے 5 لاکھ درہم جرمانہ
-
ریاستی داخلہ یا خارجہ پالیسیوں کی توہین: 50 ہزار سے 5 لاکھ درہم جرمانہ
-
قومی اتحاد یا سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والا مواد: 2.5 لاکھ درہم تک جرمانہ
لائسنسنگ کی خلاف ورزیاں:
-
بغیر لائسنس میڈیا سرگرمی:
-
پہلی بار: 10 ہزار درہم
-
دوبارہ: 40 ہزار درہم
-
-
لائسنس کی تجدید میں 30 دن سے زائد تاخیر: روزانہ 150 درہم، زیادہ سے زیادہ 3 ہزار درہم
-
شراکت داری یا تفصیلات میں تبدیلی بغیر منظوری: 20 ہزار درہم تک جرمانہ
-
ختم شدہ لائسنس کے ساتھ اشاعت جاری رکھنا:
-
پہلی بار: 10 ہزار درہم
-
دوبارہ: 20 ہزار درہم (ہر بار دگنا ہوتا جائے گا)
-
غلط معلومات کی اشاعت:
-
جھوٹی معلومات پھیلانا:
-
پہلی بار: 5 ہزار درہم
-
دوبارہ: 10 ہزار درہم
-
تقریبات اور اشاعتی خلاف ورزیاں:
-
کتاب میلہ بغیر اجازت منعقد کرنا یا اس میں رکاوٹ ڈالنا: 40 ہزار درہم جرمانہ
-
غیر لائسنس شدہ مواد کی اشاعت یا تقسیم: 20 ہزار درہم جرمانہ (دہرائی پر دگنا)
غیر ملکی نامہ نگاروں سے متعلق:
-
بغیر لائسنس کام کرنے پر:
-
تین تحریری انتباہات
-
پھر 10 ہزار درہم جرمانہ
-
یہ قانون میڈیا پیشہ وران اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے ان کی سرگرمیوں کو شفاف اور قابل احتساب بنانے کی بھی شقیں رکھتا ہے۔







