
خلیج اردومتحدہ عرب امارات میں رہنے والے کئی تارکینِ وطن کے لیے وطن واپسی صرف ایک ہوائی ٹکٹ خریدنے اور چند گھنٹوں میں گھر پہنچنے کا معاملہ نہیں۔ کچھ کے لیے یہ سفر 24 گھنٹے سے زیادہ کا ہوتا ہے، جس میں کئی پروازیں، بسیں، ٹرینیں اور بعض اوقات کشتی کے سفر بھی شامل ہوتے ہیں۔
یوکرین کی تاتیانا سکورینا، جو دبئی میں دس سال سے مقیم ہیں، جنگ سے پہلے صرف ساڑھے پانچ گھنٹے کی براہِ راست پرواز سے کیف پہنچ جاتی تھیں۔ 24 فروری 2022 کو جنگ کے آغاز کے بعد یوکرین کے تمام ہوائی اڈے بند ہوگئے۔ اب وہ دبئی سے کراکوف (پولینڈ) جاتی ہیں، پھر بس کے ذریعے لیویو اور وہاں سے کیف پہنچتی ہیں۔ دو سرحدی گزرگاہوں پر وقت غیر متعین ہوتا ہے، یوں سفر 24–25 گھنٹے لگ سکتا ہے۔
فلپائنی برادری میں بھی لمبے سفر عام ہیں۔ بیٹی (فرضی نام) نے بتایا کہ ان کی ایک دوست دبئی سے منیلا تک آٹھ گھنٹے کی پرواز کے بعد جنوبی لوزون کے علاقے بیکول بس سے بارہ گھنٹے میں پہنچی۔ اندرونِ ملک پروازیں مہنگی ہونے کے باعث زیادہ تر لوگ بس کا انتخاب کرتے ہیں تاکہ بچت شدہ رقم تحائف اور سامان (پاسالوبونگ) پر خرچ کر سکیں۔ طویل بس سفر کے دوران اکثر راتیں نشستوں پر ہی گزرتی ہیں۔
سوڈانی شہری محمد، جو ابوظہبی میں رہتے ہیں، اب اپنے گھر اور کاروبار کی دیکھ بھال کے لیے پورٹ سوڈان تک ساڑھے تین گھنٹے کی پرواز کرتے ہیں، پھر 12 سے 14 گھنٹے کا بس سفر کرکے خرطوم پہنچتے ہیں۔ خرطوم ایئرپورٹ اپریل 2023 سے بند ہے اور مرمت جاری ہے۔
ان طویل اور تھکا دینے والے سفر کے باوجود، سب کے لیے واپسی کا مقصد ایک ہی ہے — خاندان، پیارے اور گھر۔ جیسا کہ تاتیانا کہتی ہیں: "جیسے ہی گھر کا دروازہ کھلتا ہے، سفر کی تمام تھکن بھول جاتی ہے۔”







