متحدہ عرب امارات

دبئی: ولا میں آگ لگنے سے خاندان بال بال بچ گیا، رہائشیوں کو اے سی چیک کرانے کی ہدایت

خلیج اردو
دبئی لینڈ کے علاقے بیلا کاسا، سرینا میں ایک برطانوی خاندان کے ولا میں لگنے والی آگ نے یو اے ای بھر میں فائر سیفٹی ماہرین کو الرٹ کر دیا ہے، جنہوں نے شہریوں کو اے سی یونٹس کی بروقت جانچ اور فائر الارم کی درستگی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

آتشزدگی گھر کی ملازمہ کے کمرے میں ہوئی، جس کی وجہ ایک اے سی یونٹ میں پیدا ہونے والا اندرونی برقی فالٹ قرار دی گئی ہے۔ افسوسناک طور پر، کمرے میں نصب فائر الارم کام نہیں کر رہا تھا، جس کی وجہ سے آگ پھیل گئی اور ولا رہائش کے قابل نہ رہا۔

ولا کی رہائشی سلی میڈیسن کے مطابق، "اگر یہ حادثہ رات کے وقت پیش آتا تو شاید ہم بچ نہ پاتے۔ سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ فائر الارم جو ہماری پہلی حفاظتی لائن ہونا چاہیے تھا، بالکل بھی فعال نہیں تھا۔”

حادثے کے وقت گھر میں موجود پالتو بلی "مولی” کو شدید دھوئیں کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا اور اسے آکسیجن دینی پڑی، جس کے علاج پر 5,000 درہم سے زائد خرچ آیا۔ ان کی ملازمہ "نیل” اپنے تمام ذاتی سامان سے محروم ہو گئی، اگرچہ پاسپورٹ اور برتھ سرٹیفکیٹ بچا لیے گئے۔

رہائشیوں نے بتایا کہ آس پاس کے ہمسایوں نے نیل کی مدد کے لیے 3,000 درہم سے زائد عطیہ جمع کیا تاکہ وہ زندگی کو دوبارہ شروع کر سکے۔

سلی میڈیسن نے مزید کہا، "یہ صرف ایک غفلت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ عمومی لاپروائی کا مظہر ہے۔ ہم نے جب نئی رہائش کی تلاش شروع کی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ دبئی کی بہت سی ولاز میں فائر الارم سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اے سی کی مناسب دیکھ بھال بھی ایک ایسا پہلو ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔”

اے سی اور فائر الارم کی باقاعدہ جانچ ناگزیر
فائر سیفٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ گھریلو سطح پر لگنے والی زیادہ تر آگیں برقی خرابی، خاص طور پر اے سی یونٹس کے سرکٹ بورڈ یا پنکھوں میں فالٹ کی وجہ سے لگتی ہیں۔ ریئکٹن فائر سپریشن کے سی ای او سیم میلنس کے مطابق، بین الاقوامی رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ 86 فیصد اے سی آگیں انہی تکنیکی خرابیوں کا نتیجہ ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا، "اے سی یونٹس کی سال میں کم از کم دو بار مکمل سروسنگ ضروری ہے — ایک بار گرمیوں کی آمد سے قبل اور ایک بار بعد میں۔” انہوں نے مشورہ دیا کہ دھول اور ملبے سے بچاؤ کے لیے اے سی کی صفائی بھی ضروری ہے، اور اگر ممکن ہو تو خودکار فائر سپریشن سسٹم کی تنصیب کا بھی سوچا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رہائش گاہ میں فائر الارم سسٹمز کو یو اے ای کے معیارات کے مطابق چیک کیا جانا چاہیے تاکہ کسی ہنگامی صورت میں فوری ردِعمل ممکن ہو۔

حفاظتی اقدامات کے لیے تجاویز

  • اے سی کا درجہ حرارت 24 ڈگری سیلسیس پر رکھیں تاکہ نظام پر کم دباؤ پڑے

  • غیر استعمال شدہ گھروں میں اے سی مستقل چلانا خطرناک ہو سکتا ہے

  • اے سی ٹائمر استعمال کریں تاکہ یونٹ غیر ضروری طور پر نہ چلے

  • موڈ اور برقی خرابیوں سے بچاؤ کے لیے وقت پر سروسنگ ضروری ہے

یہ واقعہ دبئی کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم تنبیہ ہے کہ فائر الارم اور اے سی نظام کی باقاعدہ دیکھ بھال زندگی بچانے والی ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button