
خلیج اردو
دبئی مرینا کے ایک رہائشی ٹاور میں 13 جون کو لگنے والی آگ کو ایک ماہ گزر چکا ہے، لیکن اب بھی درجنوں رہائشی مناسب رہائش نہ ملنے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ آگ کے نتیجے میں 764 فلیٹس کے 3,820 سے زائد مکین متاثر ہوئے۔ اگرچہ آگ پر جلد قابو پا لیا گیا تھا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن کئی اپارٹمنٹس رہائش کے قابل نہیں رہے۔
متاثرین میں بھارتی شہری پراتیک بھی شامل ہیں، جو حادثے سے چند ماہ قبل ہی عمارت میں شفٹ ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ 29ویں منزل پر رہائش پذیر تھے، لیکن اب ان کا خاندان بھارت واپس جا چکا ہے اور وہ خود دوست کے ساتھ عارضی طور پر رہ رہے ہیں۔ پراتیک کا کہنا ہے کہ وہ سالانہ 94 ہزار درہم کرایہ ادا کر رہے تھے، مگر اب 105 ہزار درہم بجٹ ہونے کے باوجود دبئی مرینا یا اس کے آس پاس مناسب دو بیڈ روم اپارٹمنٹ نہیں مل رہا۔
ایرانی شیف علی رضا، جو گزشتہ تین برس سے اسی عمارت میں رہ رہے تھے، اب برشہ ہائٹس کے ایک شیئرڈ اپارٹمنٹ میں منتقل ہو چکے ہیں۔ آگ کے بعد چند دن ہوٹل اور دوستوں کے ساتھ گزارے، اور صرف پاسپورٹ، کپڑے اور کچھ ضروری اشیاء ہی لے جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک دوست نے ان کے لیے گدّا اور برتن بھی فراہم کیے۔
فلپائنی باشندہ لزی، جو ابتدا میں دوست کے ساتھ رہی، بعد ازاں خود کے لیے ایک اسٹوڈیو فلیٹ حاصل کرنے پر مجبور ہو گئیں۔ انہوں نے زیادہ تر ضروری سامان عمارت سے واپس حاصل کر لیا ہے، تاہم اب بھی پیشگی کرایہ اور سیکیورٹی ڈپازٹ کی واپسی کی منتظر ہیں۔ لزی کا کہنا تھا: "یہ رقم میرے نئے کرایے اور یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی میں مدد دے سکتی تھی، لیکن اب تک کوئی واضح جواب نہیں ملا۔”
عمارت کے واچ مین کے مطابق، متاثرہ افراد کو اپنے فلیٹس سے سامان نکالنے کے لیے فلیٹ مالک کی جانب سے انتظامیہ کو ای میل کے ذریعے اجازت نامہ درکار ہوتا ہے۔ اجازت ملنے پر ہی مقررہ وقت میں فلیٹ تک رسائی دی جاتی ہے۔ بڑے سامان جیسے فرنیچر یا برقی آلات کے لیے موو آؤٹ ریکویسٹ بھی پیش کرنا ضروری ہے، تاکہ منتقلی محفوظ انداز میں ہو سکے۔
دبئی مرینا آتشزدگی نے نہ صرف رہائش کو متاثر کیا بلکہ مالی بوجھ، دستاویزات کے نقصان اور ذہنی دباؤ جیسے کئی مسائل بھی جنم دیے۔ متاثرہ افراد اب بھی نئے آغاز کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔






