متحدہ عرب امارات

دبئی میں 25 ملین درہم کا فراڈ: جھوٹے شپ چنڈلر نے درجنوں سپلائرز کو لوٹ لیا

خلیج اردو
دبئی میں ایک کمپنی نے "شپ چنڈلر” کے طور پر خود کو پیش کرتے ہوئے 25 ملین درہم سے زائد مالیت کا بڑا فراڈ کر ڈالا۔ متاثرہ سپلائرز نے بتایا کہ کمپنی نے جعلی دستاویزات اور ویب سائٹ کے ذریعے بھروسہ جیتا، ابتدائی ادائیگیاں کیں اور بعد ازاں بڑی مقدار میں مال خرید کر غائب ہو گئی۔

"راک میرین سروسز” نامی کمپنی ڈیرا کے المکتوم روڈ پر "الریم ٹاور” کے دفاتر 604، 605 اور 606 میں قائم تھی۔ کمپنی نے شپ ریپیر، فیبرکیشن، سامان کرائے پر دینے اور افرادی قوت کی فراہمی کے جھوٹے دعوے کیے۔ جون اور جولائی کے دوران کمپنی نے مختلف سپلائرز سے جھینگے، چکن، مٹن، اسٹیل کوائلز، لیپ ٹاپس، آئی فونز، پانی گرم کرنے والے آلات، مسالے، فرنیچر اور 857 انٹرنیشنل فلائٹ ٹکٹ حاصل کیے۔

جیسے ہی کمپنی نے مال وصول کیا، دفاتر خالی کر دیے گئے، فون بند کر دیے گئے اور گوداموں سے سامان غائب کر دیا گیا۔ متاثرین میں خوراک، تعمیراتی سامان، الیکٹرانکس، اور سفری شعبے کے تاجر شامل ہیں۔

ایک گوگل ڈرائیو فولڈر میں 95 سے زائد متاثرہ کمپنیوں کی فہرست سامنے آئی ہے، جن کے نقصانات کا تخمینہ 25 ملین درہم سے زیادہ لگایا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل نقصان اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے کیونکہ مزید سپلائرز سامنے آ رہے ہیں۔

جعلی دستاویزات اور سابقہ ریکارڈ
تحقیقات کے مطابق کمپنی نے جعلی وی اے ٹی سرٹیفکیٹس، من گھڑت آڈٹ رپورٹس اور رجسٹریشن دستاویزات کا سہارا لے کر اعتبار حاصل کیا۔ خلیج ٹائمز کی تحقیق میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ وہی آڈٹ فرم پہلے ایسی کئی کمپنیوں کے مالیاتی کاغذات تیار کر چکی ہے جو اسی طرز کے فراڈ میں ملوث رہی ہیں، جیسے ڈائنامک الائنس ٹیکنیکل سروسز، رائل لک فوڈ اسٹف، اور ہاربائن مڈل ایسٹ میرین سروسز۔

سپلائرز کا ردِ عمل
اوڈیسا میرین شپ چنڈلرز کے جنرل مینجر نے بتایا کہ ان کی کمپنی نے 220,000 درہم مالیت کے جھینگے، چکن اور چائے کے بیگز فراہم کیے۔ ادائیگی کے لیے دیے گئے چیک باؤنس ہو گئے اور کمپنی کے تمام گودام خالی نکلے۔

اسی طرح ایک سفر ایجنسی نے بتایا کہ اسے 707 بین الاقوامی ٹکٹوں کی مد میں 670,000 درہم کا نقصان ہوا۔ انہوں نے شکایت کی کہ کمپنی نے محرم کی وجہ سے ادائیگی مؤخر کرنے کا بہانہ بنایا، جو سراسر دھوکہ تھا۔

قانونی پیچیدگیاں اور سپلائرز کی بے بسی
کئی سپلائرز نے پولیس میں شکایات درج کروائیں، مگر حکام نے معاملے کو "سول تنازع” قرار دے کر فوری کارروائی سے گریز کیا۔ بعض کو یہ کہہ کر واپس بھیج دیا گیا کہ چیک باؤنس ہونے کے بعد ہی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

واٹس ایپ گروپ اور اجتماعی کوششیں
فراڈ کا شکار ہونے والے 220 سے زائد افراد اب ایک واٹس ایپ گروپ کے ذریعے رابطے میں ہیں اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کر رہے ہیں۔ تاہم قانونی چارہ جوئی کی لاگت اور عدم یقینی کی وجہ سے اکثر افراد شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔


یہ کیس دبئی میں سامنے آنے والے اُن کئی فراڈ کیسز سے مماثلت رکھتا ہے، جن میں کمپنیاں بڑی مقدار میں سامان حاصل کر کے جعلی چیکوں کے ذریعے ادائیگی کا وعدہ کرتی ہیں، اور بعد ازاں غائب ہو جاتی ہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر دبئی کے تجارتی حلقوں میں ساکھ، اعتماد اور قانونی تحفظات سے متعلق اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button