
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں تیز اور فری ترسیلاتِ زر کی سہولت فراہم کرنے والی موبائل ریمیٹنس ایپ Taptap Send نے اپنی سروس عارضی طور پر بند کر دی ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ فیصلہ سسٹم اپ گریڈ کے باعث کیا گیا ہے۔
ایپ تقریباً ایک ہفتے سے کام نہیں کر رہی، جس پر باقاعدگی سے استعمال کرنے والے تارکین وطن نے حیرت کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تنخواہوں کا وقت قریب ہے اور اس موقع پر سروس کی بندش سے انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔
ایپ کھولنے پر صارفین کو ایک پیغام موصول ہوتا ہے جس میں لکھا ہے: ’’یو اے ای سے ترسیلات عارضی طور پر معطل ہیں۔ ہم اپنی سروس کو بہتر بنانے کیلئے اپ گریڈ کر رہے ہیں اور جلد ہی کم قیمت اور تیز رفتار سہولت دوبارہ شروع کریں گے۔‘‘
خلیج ٹائمز نے بدھ کے روز کمپنی سے مزید وضاحت کے لیے رابطہ کیا تاہم تاحال کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
دبئی میں مقیم بھارتی تارک وطن محمد نے بتایا کہ وہ اس ایپ کو صفر ٹرانسفر فیس، مسابقتی شرح مبادلہ اور تیز رفتار ترسیلات کی وجہ سے استعمال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’میں ماہ میں کئی بار بغیر کسی سروس چارج کے رقم بھیج سکتا تھا، اس لیے جمعہ سے ایپ بند ہونے پر حیران رہ گیا۔‘‘
Taptap Send کی بنیاد 2018 میں مائیکل فائے اور پال نییوس نے رکھی تھی، جبکہ یو اے ای میں اس کا آغاز جون 2023 میں ہوا۔ یہ ایپ برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور چند یورپی ممالک میں بھی دستیاب ہے۔
فلپائنی تارک وطن مائیکل اورٹیگا نے کہا کہ وہ ہر ماہ دو سے تین بار رقم بھیجتے ہیں، اور زیرو فیس ان کے لیے بڑی سہولت ہے، کیونکہ ریمیٹنس سینٹرز عام طور پر 15 سے 25 درہم تک چارج کرتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق، یو اے ای دنیا بھر میں ترسیلات زر کے اعتبار سے تیسرے نمبر پر ہے۔ 2024 میں یو اے ای میں مقیم بھارتیوں نے 21.6 ارب ڈالر جبکہ فلپائنی ورکرز نے تقریباً 1.52 ارب ڈالر اپنے ملک بھجوائے۔
مالی ماہر جے ایڈرین ٹولنٹینو کے مطابق زیرو فیس ماڈل مختصر مدت میں صارفین کو متوجہ کرنے کے لیے مؤثر ہے، مگر یہ آپریشنل پائیداری کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایسی ایپس عموماً منافع شرحِ مبادلہ کے فرق سے کماتی ہیں۔ تاہم جب اخراجات یا ریگولیٹری تقاضے بڑھ جائیں تو فیس یا ایکسچینج ریٹ میں معمولی ردوبدل ناگزیر ہو جاتا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ریمیٹنس ایپس کم رقوم کی ترسیل کے لیے موزوں ہیں، اسی لیے یہ زیادہ تر درمیانی اور نچلی آمدنی والے تارکین وطن میں مقبول ہیں۔
رواں سال جولائی میں بھی بعض صارفین کو تکنیکی خرابی کے باعث تاخیر کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد کمپنی نے متاثرہ صارفین کو 20 سے 60 درہم تک کے کیش بیک واؤچرز دیے اور بہتری کی یقین دہانی کرائی تھی۔






