متحدہ عرب امارات

آبنائے ہرمز کشیدگی پر عالمی ردعمل، ایران پر شدید تنقید، توانائی بحران کا خدشہ، یو اے ای سمیت اتحادی ممالک کا فوری کارروائی کا مطالبہ

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات سمیت دنیا کے متعدد ممالک نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور راستے کی بندش پر شدید مذمت کی ہے، اور خبردار کیا ہے کہ اس سے عالمی توانائی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

مشترکہ بیان میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، جاپان، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر اتحادی ممالک نے شرکت کی، جنہوں نے خطے میں بڑھتی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

بیان میں ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر میزائل اور ڈرون حملے، بارودی سرنگیں بچھانے اور تجارتی جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے جیسے اقدامات بند کرے اور اقوام متحدہ کی قرارداد 2817 پر عمل کرے۔

اتحادی ممالک نے زور دیا کہ عالمی قوانین کے تحت سمندری راستوں کی آزادی ایک بنیادی اصول ہے، اور اس میں رکاوٹ عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، خاص طور پر ان ممالک کے لیے جو توانائی درآمد پر انحصار کرتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ تیل اور گیس تنصیبات پر حملے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی معیشت کو متاثر کر سکتے ہیں، اسی لیے شہری انفراسٹرکچر پر حملے فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہے۔

مزید برآں بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا گیا جس کے تحت اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر جاری کرنے کی منظوری دی گئی ہے، تاکہ توانائی مارکیٹس کو مستحکم رکھا جا سکے۔

اتحادی ممالک نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی یقینی بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات کریں گے اور متاثرہ ممالک کو اقوام متحدہ سمیت دیگر اداروں کے ذریعے مدد فراہم کریں گے۔

ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو عالمی تیل سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں اضافہ اور عالمی معیشت پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button