خلیج اردو
یو اے ای میں شامیں خوشگوار اور موسم معتدل ہونے کے بعد شہری رات کے وقت سیر، باربی کیو اور ساحل سمندر پر محفلوں کا لطف اٹھا رہے ہیں، تاہم ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ گھروں اور دفاتر میں ایئرکنڈیشن کے مسلسل استعمال کے باعث متعدد افراد نزلہ، زکام اور گلے کی خرابی میں مبتلا ہو رہے ہیں۔
انٹرنیشنل ماڈرن اسپتال دبئی کے کریٹیکل کیئر اسپیشلسٹ ڈاکٹر محمود مدحت نے بتایا کہ انسانی جسم کو درجہ حرارت کی تبدیلی کے ساتھ بتدریج مطابقت پیدا کرنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ بار بار بہت ٹھنڈے کمروں سے گرم اور مرطوب ہوا میں آنے جانے سے ناک اور گلے کی حفاظتی جھلیاں متاثر ہوتی ہیں اور وائرس کے خلاف مزاحمت کم ہو جاتی ہے۔
ڈاکٹر عتیرا جیاپرکاش انگور، جو این ایم سی میڈیکل سینٹر ابوظہبی سے وابستہ ہیں، نے کہا کہ موسم کی تبدیلی کے اس دور میں مریضوں کی تعداد میں واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق سب سے پہلے بچے متاثر ہوتے ہیں جو اسکولوں یا کھیل کے دوران ایک دوسرے سے وائرس پھیلا دیتے ہیں اور پھر یہی بیماریاں گھروں اور دفاتر تک پہنچ جاتی ہیں۔
ڈاکٹروں نے بتایا کہ بار بار درجہ حرارت میں تبدیلی سے ناک اور گلے کی جھلیاں خشک ہو جاتی ہیں، جس سے سانس اور سائنس کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ برجل ڈے سرجری سینٹر الشہامہ کی فیملی میڈیسن اسپیشلسٹ ڈاکٹر ماریان ملک اشاک نے کہا کہ دفتر میں طویل وقت ایئرکنڈیشن ماحول میں گزارنے والے افراد زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایسے حالات میں جسم کا توازن بگڑنے لگتا ہے۔ جب کوئی شخص ٹھنڈے کمرے سے باہر گرم ہوا میں آتا ہے تو خون کی رگیں اچانک پھیل جاتی ہیں جس سے سر درد یا بند ناک جیسی علامات پیدا ہوتی ہیں۔ اسی طرح نمی میں فرق بھی سانس لینے میں دشواری پیدا کرتا ہے۔
ڈاکٹر بایجو فیصل، جو لائف کیئر اسپتال مصفح کے کنسلٹنٹ انٹرنل میڈیسن اسپیشلسٹ ہیں، نے کہا کہ درجہ حرارت میں تبدیلی براہ راست بیماری کی وجہ نہیں بنتی، مگر جسم پر دباؤ ضرور ڈالتی ہے، خاص طور پر ان افراد پر جن کی قوت مدافعت کمزور ہو۔ ان کے مطابق اچھی خوراک، نیند اور پانی کا مناسب استعمال بیماریوں سے بچاؤ میں زیادہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ڈاکٹروں نے بتایا کہ عام علامات میں گلے کی خراش، ناک بند ہونا، چھینک، کھانسی، ہلکا بخار اور تھکن شامل ہیں۔ زیادہ تر کیسز پانچ سے سات دن میں خودبخود ٹھیک ہو جاتے ہیں، تاہم اگر بخار تیز ہو، سانس لینے میں دشواری یا سینے میں درد ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ گھروں کا درجہ حرارت 23 سے 25 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رکھا جائے اور رات کے وقت بہت زیادہ ٹھنڈا ماحول نہ بنایا جائے۔ ڈاکٹر ماریان کے مطابق ایئرکنڈیشن مکمل بند کرنے کی ضرورت نہیں، بس اعتدال برقرار رکھنا بہتر ہے تاکہ جسم آہستہ آہستہ مطابقت پیدا کر سکے۔
ڈاکٹر عتیرا نے مشورہ دیا کہ ہر سال فلو ویکسین لگوانا اور قوت مدافعت بڑھانے والی معمولی سپلیمنٹس لینا فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق صرف سالانہ فلو شاٹ سے صحت کے اخراجات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔






