متحدہ عرب امارات

یو اے ای جابز 2026: دبئی میں غیر ملکیوں کے لیے سرکاری ملازمتوں کے مواقع، تنخواہیں 40 ہزار درہم تک

خلیج اردو

سال 2026 میں دبئی اور متحدہ عرب امارات میں غیر ملکی ماہرین کے لیے سرکاری ملازمتوں کے مواقع میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جہاں حکومت صحت، ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر اور تعلیم کے شعبوں میں نئے کردار متعارف کرا رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی وفاقی اسامیاں، دبئی کے مختلف سرکاری اداروں میں ہنر مند غیر ملکیوں کے لیے دروازے کھول رہی ہیں، جس کے باعث 2026 ایک مستحکم ملازمت، پرکشش تنخواہوں، بہتر مراعات اور مضبوط کیریئر گروتھ حاصل کرنے کا موزوں وقت قرار دیا جا رہا ہے۔

دبئی میں صحت، ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر اور تعلیم کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے باعث سرکاری سطح پر روزگار کے مواقع تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ اگرچہ زیادہ تر غیر ملکی نجی شعبے میں کام کرتے ہیں، تاہم سرکاری ملازمتیں استحکام، بہتر تنخواہوں اور اضافی سہولیات کی وجہ سے خاص کشش رکھتی ہیں۔ اگرچہ اماراتی شہریوں کو ترجیح دی جاتی ہے، لیکن اب کئی سرکاری ادارے غیر ملکی ماہرین کو بھی بھرتی کر رہے ہیں۔

وفاقی سطح پر بتایا گیا ہے کہ 2026 میں سرکاری اسامیاں بڑھ کر 7 ہزار 842 تک پہنچ سکتی ہیں، جس کی ایک وجہ ادارہ جاتی تنظیم نو اور سات نئے اداروں کا قیام ہے، جن کے لیے ایک ارب 315 ملین درہم کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ قانون سازوں کا کہنا ہے کہ ہنر مند افراد کو متوجہ کرنا وقت کی ضرورت ہے، خصوصاً صحت، خاندانی معاونت اور خصوصی افراد سے متعلق خدمات کے شعبوں میں۔

مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث بھی یو اے ای میں نئی ملازمتیں پیدا ہو رہی ہیں، جہاں قیادت کی بڑی تعداد ایک سال کے اندر کام کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلیوں کی توقع کر رہی ہے۔ اس صورتحال میں آئی ٹی، ڈیجیٹل سروسز اور تکنیکی مہارت رکھنے والے افراد کے لیے اہم مواقع سامنے آ رہے ہیں۔

دبئی کے سرکاری جاب پورٹل dubaicareers.ae پر مختلف شعبوں میں ایسی اسامیاں موجود ہیں جو تمام قومیتوں کے لیے کھلی ہیں، جن میں بعض کی ماہانہ تنخواہ 40 ہزار درہم تک بتائی گئی ہے۔ ان میں سماجی نگہداشت، انجینئرنگ، آئی ٹی، میڈیا، ایمرجنسی میڈیسن، انسانی وسائل اور تنظیمی کارکردگی سے متعلق عہدے شامل ہیں۔

حکام کے مطابق ملازمت کے خواہش مند افراد کو چاہیے کہ وہ بھرتی کے پلیٹ فارمز پر باقاعدگی سے نظر رکھیں اور شعبہ جاتی ترقی اور موسمی بھرتیوں کے مطابق درخواستیں دیں، جبکہ اداروں کے لیے بھی یہ وقت موزوں ہے کہ وہ ہدفی بنیادوں پر باصلاحیت افرادی قوت تک رسائی حاصل کریں۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button