
خلیج اردو
ابوظہبی، 8 جولائی 2025 — متحدہ عرب امارات کی قیادت میں ایمیزون بیسن میں ماحولیاتی جرائم کے خلاف بڑے بین الاقوامی کریک ڈاؤن کے دوران 94 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ 64 ملین ڈالر سے زائد مالیت کے اثاثے بھی ضبط کر لیے گئے۔
یہ کارروائی "گرین شیلڈ” کے نام سے 14 روزہ بین الاقوامی آپریشن کے تحت کی گئی، جس کی قیادت یو اے ای نے کولمبیا، برازیل، پیرو اور ایکواڈور کے ساتھ مل کر کی۔ متحدہ عرب امارات کے نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ شیخ سیف بن زاید النہیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر آپریشن کی تفصیلات شیئر کیں۔
یہ آپریشن اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (UNODC) کے تعاون سے COP28 ماحولیاتی کانفرنس کے دوران دبئی میں شروع کیے گئے یو اے ای کے عالمی اقدام "Law Enforcement for Climate (I2LEC)” کے تحت کیا گیا۔
ماحولیاتی نظام کی حفاظت کے لیے یہ کارروائی انویئرونمنٹل سسٹمز ریسرچ انسٹیٹیوٹ (ESRI) کی مدد سے 350 فیلڈ آپریشنز پر مشتمل تھی، جن کے ذریعے ان مجرمانہ نیٹ ورکس کو ختم کیا گیا جو محفوظ ماحولیاتی علاقوں کو نقصان پہنچا رہے تھے۔
ماحولیاتی قیادت میں یو اے ای کا بڑھتا ہوا کردار
یہ اقدام متحدہ عرب امارات کی عالمی ماحولیاتی قیادت کے عزم کا حصہ ہے، جہاں وہ ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کئی عملی اقدامات کر رہا ہے — جن میں موسمی مچھلی کے شکار پر پابندیاں، قدرتی ذخائر میں خلاف ورزیوں پر سخت سزائیں، اور ماحولیاتی قوانین کی تشکیل شامل ہے۔
2025 میں یو اے ای نے نیا ماحولیاتی قانون نافذ کیا، جو MENA خطے میں اپنی نوعیت کا پہلا قانون ہے، جس کا مقصد گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج پر احتساب اور ماحولیاتی لچک کو قانونی بنیادوں پر یقینی بنانا ہے۔
مزید یہ کہ یو اے ای مخصوص نسلوں کے لیے مچھلی کے شکار کے سیزن کو ان کی افزائش نسل کے اوقات سے ہم آہنگ کرتا ہے، تاکہ سمندری حیات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
اکتوبر 2024 میں، ابوظہبی میں الوثبہ ریزرو میں غیر قانونی داخلے اور نقصان پہنچانے پر افراد پر 165,000 درہم جرمانہ عائد کیا گیا۔
حال ہی میں فجیرہ میں ایک برائڈز وھیل کو فطری راستے کی طرف بحفاظت واپس لانے کی کامیاب مہم چلائی گئی، جس میں فجیرہ انوائرمنٹ اتھارٹی، فجیرہ پورٹ، ریسرچ سینٹر، اور یاس سی ورلڈ ریسکیو سینٹر نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔






